
اب تو اپنی حالتِ زار بتانے کے لیے بات بھی نہیں کرسکتے: محمد صادق
محمد صادق کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین سے ہے اور پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان میں بے گھر ہونے والے درجنوں محسودوں میں سے وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے طالبان یا سکیورٹی فورسز کی خوف کی پرواہ کیے بغیر بات کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
مجھے ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جو یہ بتائے کہ جنوبی وزیرستان میں دو ہزار چار کے بعد وقوع پزیر ہونے والی طالبانائزیشن نے ان کی روز مرہ کی زندگی پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔
محمد صادق نے اس موضوع پر بات کرنے کے لیے حامی بھر لی اور پہلے سوال کے جواب میں کہا ’جب طالبان نہیں آئے تھے اس وقت تو ہم اپنی مرضی کے مطابق آزاد اور خودمختار زندگی گزار رہے تھے۔ ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی لیکن اب تو اپنی حالتِ زار بتانے کے لیے بات بھی نہیں کرسکتے۔ اس وقت جو میں آپ سے بات کررہا ہوں مجھے خوف ہے کہ کہیں کسی (طالبان کی طرف اشارہ) میری باتیں بری نہ لگیں۔‘
محمد صادق کے بقول’اب تو نہ کاروبار ہے اور نہ ہی مال مویشی، علاقے میں غربت بڑھ گئی ہے، تعلیمی ادارے مسلسل بند رہتے ہیں۔ پریشانی کا یہ عالم ہے کہ چوبیس گھنٹے یہ فکر لگی رہتی ہے کہ اگلے لمحے ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔‘
میرا اگلا سوال تھا کہ طالبانائزیشن کی وجہ سے ثقافتی اور معاشرتی رجحانات میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے تو انہوں نے کہا ’ہاں بلکل۔ پہلے شادی بیاہ کے موقعوں پر ڈھول بجائے جاتے تھے اور لوگ رقص کیا کرتے تھے۔ نوجوان میوزک سن سکتے تھے لیکن اب تو ڈھول ہے اور نہ ہی میوزک۔ شادیاں اتنی سادگی سے ہوتی ہیں کہ اس میں شرکت کرنے کو بھی جی نہیں کرتا اور میوزک کا جنازہ تو شہروں سے بھی نکال دیا گیاہے۔ وزیرستان میں طالبان کی پابندی کی وجہ سے تو کوئی اس بارے سوچ بھی نہیں سکتا۔‘
نوجوانوں کے رجحانات کے بارے میں محمد صادق کا کہنا تھا ’نوجوان سارے ان پڑھ ہیں۔ وہ طالبان کی جانب راغب ہوئے ہیں۔ طالبان انہیں کھلاتے پلاتے ہیں اس لیے وہ ان کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ رہ گئے ہم بڑے ہمیں تو اپنے خاندان والوں اور ان نوجوانوں کی مستقبل کی فکر لاحق رہتی ہے۔‘
محمد صادق سے پوچھا کہ کبھی سوچا تھا کہ آپ کسی دن قطار میں کھڑے راشن لینے کے لیے گھنٹوں انتظار کریں گے تو ہنستے ہوئے کہنے لگے’میرے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں تھی۔ میں اس کی ذمہ داری پاکستان کی ان خفیہ قوتوں پر عائد کرتا ہوں جنہوں نے طالبان کو بنایا ہے۔‘
© MMIX