
مصبرین کہتے ہیں یہ زرداری صدارت کے لیے ایک مشکل وقت ہے
قومی مفاہمتی آرڈیننس پر پسپائی کے بعد لرزتے ہوئے صدراتی تخت کو بچانے کے لیے پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت تیزی سے روٹھے ہوئے اتحادیوں اور پرانے ساتھیوں سے رابطے بحال کرتی نظر آرہی ہے۔
ایوان صدر میں ایک کے بعد دوسری ملاقات کا سلسلہ جاری ہے اور ان ملاقاتوں میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے وکیل رہنما اعتزاز احسن کی ملاقات ایک اہم پیش رفت ہے۔
صدر آصف زرداری نے دو روز کے دوران حلیف جماعتوں جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کےسربراہوں اور متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنماؤں کو ایوان صدر بلا کر ملاقات کی اور اس کےبعد حکومت اور ایم کیو ایم میں دبئی میں مذاکرات ہوئے۔
ان مذاکرات کے ذریعے حکومت ناراض حلیفوں کو راضی کرلینے کا تاثر بخوبی ابھار چکی ہے البتہ فوج اور عدلیہ سے تعلقات کی استواری ابھی باقی ہے۔
صدر آصف زرداری کی پارٹی کے زیر عتاب رہنما اعتزاز احسن سے ملاقات کو مبصرین اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن بےنظیر دور حکومت میں وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز رہے ہیں لیکن عدلیہ بحالی تحریک پر اعتزاز احسن اور پارٹی قیادت میں دوری پیدا ہوگئی تھی۔
اعتزاز احسن نے وکلاء تحریک کے حق میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور پارٹی ٹکٹ واپس کردیا تھا۔آصف زرداری نے صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی قائد کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اعتزاز احسن کی پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کی رکنیت معطل کردی تھی۔اس کے عد سے دونوں کے تعلقات کوئی زیادہ خوشگوار نہیں رہے تھے اور ماضی کی ایک بار کی ملاقات کے باوجود ان کی رکنیت بحال نہیں کی گئی تھی۔
اب اسی معطل شدہ ایگزیکٹو رکن اعتزاز احسن کے بارے میں مقامی میڈیا میں یہ خبر گردش کرتی رہی کہ اس ملاقات میں انہیں اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے کی پیشکش کی گئی ہے ۔
اعتزاز احسن نے جمعرات کی شب ہونے والی اس ملاقات کا اقرار تو کیا ہے لیکن کسی عہدے کی پیشکش کی تصدیق یا تردید نہیں کی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ اگر ایسی کوئی پیشکش کی بھی گئی ہے تو ان کا جواب کیا رہا۔
اعتزاز احسن نے میڈیا کو یہ بتانے سے بھی صاف انکار کردیا کہ ان کی آصف زرداری سے کیا بات چیت ہوئی البتہ انہوں نے اتنا ضرور کہا کہ ان کی ملاقات کا مطلب یہی ہے کہ حالات نازک ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری اپنے پارٹی کے پرانے ساتھی اعتزاز احسن کو عدلیہ اور فوج سے رابطوں کے ایک پل کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت ایک طرف امریکی امداد کے کیری لوگر بل کے معاملے پر فوج کو ناخوش کرچکی ہے تو دوسری طرف آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی قیادت کو این آر او کے معاملے پر عدالت کا سامنا کرنا ہوگا۔
اعتزاز احسن کے نہ صرف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے انتہائی خوشگوار تعلقات ہیں بلکہ وہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز کیانی سے بھی اچھے رابطے میں ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ ایوان صدر ہر طرف سے مخالفت کے تھپیڑوں سے لرز رہا ہے اعتزاز احسن کا آصف زرداری کا ساتھ دینا ان کی تقویت کا سبب بنے گا۔
پارٹی کے معتوب اعتزاز احسن ایوان صدر کے عدلیہ اور فوج سے اچھے تعلقات کے لیے نہ صرف بیک ڈور بلکہ فرنٹ ڈور کا ایک قابل اعتماد ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اولین شرط خود ان کا دل سے اس کام کے لیے راضی ہونا ہے۔
© MMIX