Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 5 november, 2009, 12:13 GMT 17:13 PST

’لدھا میں پیشقدمی، 28 جنگجو ہلاک‘

فائل فوٹو، فوجی کارروائی، جنوبی وزیرستان

سکیورٹی فورسز نے تقریباً دو ہفتے پہلے جنوبی وزیرستان میں کارروائی کا آغاز کیا تھا

پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خلاف جاری آپریشن راہ نجات میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں اٹھائیسں دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ پانچ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

کارروائی کے دوران ایک افسر سمیت پانچ سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنڈولہ سراروغہ کے محور میں آپریشن کے دوران ایک افسر سمیت پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ جوابی کارروائی میں سولہ شدت پسند بھی مارے گئے۔ اس کارروائی میں پانچ شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیاگیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے لدھا قلعہ، شاشاک اور بنگل خیل کے علاقوں کو کلئیر کردیا ہے۔ اس کے علاوہ آسمان منزہ اور گدوائی کے علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز نے اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے۔

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک معاہدے کے تحت سکیورٹی فورسز نے لدھا قلعہ خالی کردیا تھا جس کے بعد اس قلعے کو طالبان نے مسمار کردیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں نے منگرہ سر اور غنڈئی گڑھ کے مقامات پر راکٹ حملے کیے ہیں تاہم جوابی حملوں میں سات شدت پسند مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے سپین قمر، وچہ کونہ الگڈ اور لوگر منزہ میں آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی لی ہے جبکہ اس دوران ہونے والی لڑائی میں پانچ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔

ادھر صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں آپریشن راہِ راست کے دوران نو شدت پسندوں نے رضاکارانہ طورپر خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا ہے۔

دریں اثناء کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان اعظم طارق نے نامہ نگار عبد الحئی کاکڑ کو فون پر بتایا ہے کہ انہوں نے ایک حکمت عملی کے تحت جنوبی وزیرستان کے چند علاقوں کو خالی کیا ہے اور بدھ سے طالبان نے گوریلا حملوں کا آغاز کیا ہے اور لدھا اور مکین میں سکیورٹی فورسز پر کچھ حملے بھی کیے ہیں۔

خیال رہے کہ سکیورٹی فورسز نے تقریباً دو ہفتے پہلے جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس آپریشن کی وجہ سے وزیرستان کے قریب واقع بندوبستی علاقوں ٹانک اور ڈیرہ اسمعیل خان میں موبائل ٹیلی فون سروس معطل کر دی گئی تھی جبکہ بعض علاقوں میں وائرلیس موبائل فون بھی بند کردیے گئے ہیں جس کی وجہ سے آزاد ذرائع سے اطلاعات ملنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔