Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 6 november, 2009, 03:49 GMT 08:49 PST

کوئٹہ: یونیورسٹی پروفیسر کا قتل

وزیر شفیق احمد خان کا جنازہ

پچھلے ماہ صوبائی وزیر تعلیم شفیق احمد خان کو بھی قاتلانہ حملے میں ہلاک کیا گیا تھا

کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو رات گۓ نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ نےواقعہ کے خلاف احتجاج میں تین روز تک سوگ منانے اور کلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

بلوچستان یونیورسٹی میں لائبریری سائنس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر خورشید انصاری کوئٹہ کے کاسی روڈ کے علاقے ٹین ٹائون میں جمعرات کو عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر جا رہے تھے کہ گھر سے کچھ ہی فاصلے پر نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ۔

واقعہ کےبعد ملزمان ایک موٹرسائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی گوالمنڈی پولیس اور فرنٹیئرکور و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے پروفیسر کی لاش سول ہسپتال پہنچائی۔

ڈاکٹروں کے مطابق پروفیسر خورشید انصاری کو سینے اور پیٹ میں پانچ گولیاں لگیں جس سے موقع پر ہی ان کی موت ہوئی۔ واقعہ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی لیکن آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی

پروفیسر خورشید کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی بلوچستان یونیورسٹی کی اساتذہ برادری کی بڑی تعداد سول ہسپتال پہنچ گئی اور واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے پروفیسر خورشید کی ہلاکت کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ایسوسی ایشن کے صدر کلیم اللہ بڑیچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر صفدر کیانی کے بعد پروفیسر خورشید کی ٹارگٹ کلنگ قابل مذمت ہے حکومتی سطح پر اساتذہ کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے جو باعث تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف تین روزہ سوگ مناتے ہوئے جامعہ میں درس و تدیس کا عمل مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔ کلیم اللہ نے مطالبہ کیاکہ حکومت پروفیسر خورشید کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کو یقینی بناتے ہوئے اساتذہ کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ دوہفتوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کا یہ تیسرا واقعہ ہے جس میں تعلیم کے شعبے سے وابستہ اشخاص کو نشانہ بنایا جار ہا ہے۔ پہلے صوبائی وزیرتعلیم شفیق احمد خان کو انکے گھر کے سامنے گولی مار کر ہلاک گیا اس کے بعد بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیئٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے سیکریٹری پر سیٹلائیٹ ٹاؤن کوئٹہ میں حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے اور جمعرات کو پروفیسر خورشیدپر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔