Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 5 november, 2009, 14:54 GMT 19:54 PST

سچے جھوٹے سروے

نواز شریف اور آصف زرداری

سب سے زیادہ نشانہ آصف زرداری اور جمہوری حکومت کو بنایا جا رہا ہے

مارچ کا مہینہ آنے والا ہو تو کوئیک مارچ کا خطرہ ہوتا ہے، جون جولائی میں اسلام آباد کا موسم گرم ہوجاتا ہے، ستمبر ستمگر قرار دیا جاتا ہے اور ان دنوں کہا جا رہا ہے کہ نومبر دسمبر کی راتیں سرد اور طویل ہوں گی۔

موسمی سختیوں پر مبنی ان سیاسی پیشنگوئیوں کے علاوہ پاکستان کے ہر جمہوری دور میں بوٹوں کی چاپ سنائی دینے لگتی ہے، فرشتوں کے پر پھڑ پھڑانے لگتے ہیں، جادو کی چھڑی گھومنے والی ہوتی ہے۔

یہ سب اصطلاحات آج کل استعمال کی جا رہی ہیں۔

مقبولیت و نامقبولیت کے سچے جھوٹے سروے بھی آنے لگے ہیں۔ایسے ہی ایک سروے کے مطابق ریٹائرڈ جنرل اورعسکری قوت کے بل بوتے پر پاکستان کا چیف ایگزیکٹو بننے والے پرویز مشرف پاکستان میں انتہائی غیر مقبول ہیں اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کہلانے والی پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن آصف زرداری ان سے بھی زیادہ غیر مقبول ہیں۔

کرپشن کی مصدقہ اور غیر مصدقہ کہانیاں مقامی میڈیا کےگلشن کا کاروبار چلا رہی ہیں۔خودکش بم دھماکے، مہنگائی،توانائی کی قلت اور آٹے، چینی، چاول کے بحران تازیانے کی طرح موجودہ حکومت پر برس رہے ہیں لیکن بعض اخباری کالموں اور سیاسی تبصروں میں بالواسطہ نشانہ موجودہ جمہوری ڈھانچے کو بنایا جا رہا ہے۔

سیاسی بزرجمہر قرار دے رہے ہیں کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس پر حکومتی پسپائی اور اس سے پہلے ججوں کی بحالی پر حکومتی شکست، کیری لوگر بل کے نام پر امریکی امداد کی تاریخی مخالفت، ایم کیو ایم اور جے یو آئی کامختلف ایشوز پر ساتھ چھوڑ جانا اس بات کے اشارے ہیں کہ ایوان صدر خالی ہوا ہی چاہتا ہے۔

سیاسی توڑ پھوڑ کے خواہشمند مبصر اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ آصف زرداری کی رخصتی کو اس سے بھی بڑے قومی بحران کی جانب پہلا ٹھوس قدم قرار دیتے ہیں۔

جی ایچ کیو

افواہوں کی وجہ پاکستان حکومت اور فوج میں تناؤ بتائی جا رہی ہے

پیپلزپارٹی کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے بھی کہہ دیا کہ ’اب مانئیس ون نہیں بلکہ مائنیس تین سو بیالیس ہوگا۔‘

پاکستان میں قومی اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد تین سو بیالیس ہے ۔

گورنر پنجاب دراصل صدر آصف زرداری کی طرفداری میں یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اکیلے صدر زرداری ہی نہیں جائیں گے بلکہ پوری پارلیمنٹ ہی برطرف ہوجائے گی۔

افواہ سازی کے اس موسم میں خود صدر آصف زرداری سے ایک جملہ معترضہ منسوب کردیا گیا ہے کہ ’ایوان صدر سے میری لاش ہی جائے گی۔‘ ہوسکتا ہے کہ آصف زرداری نے اپنی کسی نجی محفل میں بھی یہ جملہ ادا نہ کیا ہو لیکن ان کے شخصی تاثر کے پس منظرمیں یہ جملہ قبولیت کی سند لیے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں گردش کر رہا ہے۔

حالات ناموافق ہونے کی وجوہات کبھی چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع بیان کی جاتی ہے تو کبھی شیخ رشید سمیت بعض سیاستدان اورمبصر کہتے ہیں کہ تعلقات کی خرابی کا آغاز کیری لوگر بل میں ہونے والی شرائط سے شروع ہوا۔ امریکی امدادی پیکج پر مبنی کیری لوگر بل میں فوج کی سیاسی معاملات میں عدم مداخلت کی شرط بھی شامل ہے۔

دور کی کوڑی لانے والوں نے قرار دیا کہ یہ شرط پیپلز پارٹی کی حکومت نے بل میں شامل کروائی ہوگی۔

سب سے بڑی حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نون کے رہنما یہ تو کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی غیر جمہوری اقدام کی مخالفت کریں گے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتے ہیں حکومت ہوش کے ناخن لیں ورنہ وہ مجبور ہوں گے۔

کیا اس بات کا مطلب نکالا جائے کہ پھر اپوزیشن غیر جمہوری رویوں کی حمایت کر دے گی؟

اس بات سے قطع نظر کہ واقعی موجودہ سیاسی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے یا یہ سب کچھ چائے کی پیالی میں طوفان ہے، آصف زرداری حالات کو سمیٹنے کے لیے خود براہ راست سیاسی میدان میں اترے ہیں۔

قومی مفاہمی آرڈیننس پر پسپائی کے بعد اپنے اتحادی مولانا فضل الرحمان سے خصوصی ملاقات اور ایم کیو ایم کے وفد کے لیے ایوان صدر میں عشائیہ انہی کوششوں کی ایک کڑی ہے۔

صدارتی کیمپ کے لوگ متحرک تو نظر آ رہے ہیں لیکن ان میں بظاہر سراسیمگی نہیں پائی جاتی۔

ان کے اطمینان کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں موجودہ جمہوری سیٹ اپ کے لیے امریکی حمایت اور پاکستانی فوج کا قبائلی علاقے میں حالت جنگ میں ہونا شامل ہے۔

فوج قبائلی علاقے میں ایک ایسی جنگ میں مصروف ہے جس میں اس کی اپنی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں فتح کے اعلان سے زیادہ اس فتح کو برقرار رکھنا اہم ہے۔

اس صورتحال میں فوج کا سیاسی نظام کو تلپٹ کرنے کا اقدام کرنا عملی طور پر ممکن تو نہیں لگ رہا ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ امریکی پالیسی اور پاکستانی فوج کو اپنے تیور بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔