Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 5 november, 2009, 16:18 GMT 21:18 PST

’محسوس ہوا میرا ایک حصہ مرگیا ہو‘

چند ان پڑھ شدت پسند مذہبی لوگ بےگناہ شریوں کی زندگیوں سے کیوں کھیل رہے ہیں

جب جب میرے ذہن میں میرے اپنے شہر پشاور میں گزشتہ ہفتے ہونے والے تباہ کن کار بم حملے کا خیال آتا ہے، دھماکے کے ہلاک شدگان اور زخموں سے جان دیتے ہوئے لوگوں کی تصویریں بھی میرے سامنے آ جاتی ہیں۔

اس دھماکے میں سو سے زیادہ افراد ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے۔ شہر کے ہسپتالوں میں مرنے والوں کی لاشوں اور زخمی افراد کے علاج کے لیے جگہ کم پڑ گئی اور تابوت بنانے والے، تابوتوں کی مانگ پوری نہ کرسکے۔

اس تازہ ترین وحشیانہ عمل کا جس میں دہشت گردوں نے پشاورکی تپاک اور شائستگی کو نشانہ بنایا، مجھ پر بہت شدید اثر ہوا ہے کیونکہ یہ واقعہ اس مقام کی ہمسائگی میں ہوا جہاں میری پیدائش ہوئی اور جہاں میں پلا بڑھا۔

پشاور ایک قدیم شہر ہے جو دو ہزار سال تک ایشیا کے لیے پل کا کام دیتا رہا ہے۔اس کی یہ شہرت اپنی جگہ کہ یہ برِ صغیر پاک و ہند کے مغرب میں واقع ایک پُر شور سرحدی شہر ہے۔ مگر پشاور پھولوں اور رنگوں کا شہر بھی ہے اور اس شہر نے اپنے رنگ ’زبانوں کی قوسِ قزاح‘ سے لیے ہیں۔ یہ وہی زبان ہے جو یہاں کے بازاروں اور کارواں سراؤں میں بولی جاتی تھی۔ یہیں کھبی ہندوستان اور وسطی ایشیا کے وسیع و عریض علاقوں کا سنگم تھا جس نے اس سحر آفریں ثقافت کو اجاگر کیا جس میں دور دراز کے دیسوں کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ ایسے ہی سماجی ماحول میں، میں نے آنکھ کھولی، اسی ماحول میں بڑا ہوا اور اسی طرح کے ماحول میں شہر کی زبان اور ثقافت میں ڈوب سا گیا۔

سنہ انیس سو تریسٹھ میں جب میں امریکہ کے لیے روانہ ہوا تو اپنا شہر چھوڑنے پر میری بھی آنکھیں اسی طرح نم تھیں جس طرح کہ نوجوانوں کی اپنا گھر چھوڑنے پر ہوا کرتی ہیں۔ میں اپنے ساتھ کچھ انمٹ یادیں اور چند تصاویر لے گیا۔

یہاں کے لوگوں اور مقامات کی شگفتہ اور دلکش یادیں اور شہر کو پھر دیکھنے کی آرزو ہی، جگہ جگہ میرے جینے کا ایک سہارا بنی اور یہی وہ یادیں ہیں جن کا میں آج ماتم کر رہا ہوں۔

یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ چند ان پڑھ کٹر مذہبی لوگ معاشرے اور بےگناہ شہریوں کی زندگیوں سے کیوں کھیل رہے ہیں۔ میرے خیال میں طالبان ایک عجیب و غریب اور تنگ نظر سوچ کے مالک ہیں جس سے ان کے اس عقیدے کو تقویت ملتی ہے کہ انجام ہی حصولِ مقصد کے لیے ذرائع کا جواز ہے۔ اور اس معاملے میں انجام پاکستان پر کنڑول حاصل کرنا ہے تاکہ وہ یہاں باہر سے آئے ہوئے اسلام کی تعبیر نافذ کر سکیں جو پاکستانیوں کے لیے اجنبی ہے۔

یہ مخلوق، یہ درندے جن کا جنم، مذہب اور برائی کے ایک غیر مقدس اخطلاط کا نتیجہ ہے، وہ نہیں ہیں جنھیں ہم سرحد کے رہنے والے، مذہب کی طرف مائل لوگ یا پارسا لوگ گرادنتے ہیں۔ ہمارا بڑے سے بڑا روایت پسند بھی خواہ وہ تبدیلی کا کتنا ہی بڑا مخالف کیوں نہ ہو، اسلام کی بتائی ہوئی حدود سے کبھی تجاوز نہیں کرے گا۔

یہ حدود اپنے ماننے والوں کو صرف اپنے دفاع میں جنگ تک محدود کرتی ہیں۔ ہم جس مذہب کو مانتے ہیں وہ کھیتوں کھلیانوں اور زمین و جائیداد کو تباہ کرنے سے منع کرتا ہے، مویشیوں کی ہلاکت سے باز رہنے کو کہتا ہے، پانی کی رسد گاہوں کی چھیڑ چھاڑ سے روکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ عورتیں، بچے اور عمر رسیدہ افراد کو کوئی گزند نہ پہنچنے پائے۔ مگر پشاور حملے کا نشانہ بننے والوں کی اکثریت تو عورتیں اور بچے ہی تھے۔

یہ دہشت گرد عوامی گروہوں اور قریب قریب بسے علاقوں میں گھس جاتے ہیں۔ یہ لوگ بات مذہب کی زبان میں کرتے ہیں جو عام لوگوں اور سادہ لوح دماغوں میں جلد گھر کر جاتی ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت کو ملنے والی امریکی امداد ہی اس تمام شور و شر کی وجہ ہے۔ لیکن اس ہولناک اور سنگین دلیل میں کہیں یہ ذکر نہیں ملتا کہ مذہب سکھاتا کیا ہے۔

بہت سے لوگ اس طرح کے اسلام کو نہیں مانتے لیکن وہ کھلے عام ایسا کہنے سے ڈرتے ہیں۔ کھلم کھلا اور عوامی سطح پر کیا گیا اختلاف لوگوں کو فوراً ہی طالبان کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔

رحمان بابا جنہوں نے اپنی شاعری کےذریعے پشتون اور غیر پشتون کو ہمیشہ امن اور محبت کا درس دیا

پشاور آتے جاتے میں نےمحسوس کیا کہ بہت سے لوگ طالبان کی اسی مسخ شدہ منطق میں پھنسے ہوئے ہیں۔بہت سے لوگ اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کوئی مسلمان ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ دوسری جانب شہری علاقوں میں رہنے والے نوجوان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ طالبان پاکستانی معاشرے میں موجود تمام برائیوں کا خاتمہ کر دیں گے لیکن شاید وہ یہ بھول چکے ہیں کہ طالبان نے افغانستان میں اپنے دور حکومت 1996 سے 2002 کے دوران کس طرح کے اقدامات کیے تھے۔

آٹھ ماہ قبل طالبان نے پشاور میں سترہویں صدی کے صوفی شاعر شاعر رحمان بابا کے مزار پر بم دھماکہ کیا۔ وہی رحمان بابا جن کے صوفیانہ اور رومانوی کلام نے پشتون اورغیر پشتون نسلوں کو روحانی بقا فراہم کی ہے اور ان میں ولولہ پیدا کیا ہے۔

القاعدہ اور طالبان اسلام کی وہابی اور درشت قسم کی تشریح کے علاوہ کچھ مانتے ہی نہیں۔وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں چاہے وہ رحمان بابا جیسے پیار اور مذہبی رواداری کا درس دینے والے صوفی کا مقبرہ ہی کیوں نہ ہو۔میں ان کے مقبرے کی اس توہین کو دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔

اب میں جب جب اس تباہی کے بارے میں سوچتا ہوں تو میں ان لوگوں، ان لوگوں کے بچوں اور پھر ان بچوں کے بچوں کے بارے میں سوچے بغیر نہیں رہ سکتا جو اس شہر کی تنگ گلیوں میں ابھی تک بستے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کے کونے کی مسجد سے ہر روز پانچ مرتبہ صدائے اذان بلند ہوتی تھی۔ یہ مسجد بھی وہاں کے لوگوں اور گھروں کی طرح دھماکے کی نذر ہوگئی۔

میں نے پشاور سے متعلق اپنے اکثر اپنے آرٹیکلز اور کتابوں میں مسلم مینا بازار( جیسا کہ اس علاقے کو کہا جاتا ہے) کے بارے میں، اس کے گرد و نواج کے بارے میں، یہاں کے رہائشیوں کے بارے میں جن کے ساتھ میں رہا، ان کی زندگی کے شب و روز، تاجروں، دکانداروں، اساتذہ اور آرٹسٹوں کے بارے میں لکھا ہے۔ میں ہمیشہ اپنے آپ کو ان کا حصہ سمجھتا ہوں اور مجھے یہ محسوس ہوتا ہے جیسے میرا ایک حصہ پچھلے ہفتے ہونے والے بم دھماکے میں ان کے ساتھ ہی مرگیا۔

ڈاکٹر ایس امجد حسین ریٹائرڈ سرجن ہیں جن کے کالم اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔