
گزشتہ کئی سالوں سے جاری امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر واقعات شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پیش آئے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں چار غیر ملکی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔
پولٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً ڈیڑھ بجے امریکی جاسوسی طیاروں نے میرانشاہ سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر دور مشرق کی جانب نورک نامی گاؤں میں ایک مقامی شخص مشرف گل کے بیٹھک کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے بقول حملے میں ایک گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے جو کچھ دیر پہلے ہی بیٹھک کے احاطے میں داخل ہوئی تھی جس میں مبینہ طور پر غیر ملکی سوار تھے۔
ان کے بقول حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں جو سبھی ہی غیرملکی بتائے جارہے ہیں تاہم ان کی شہریت کا پتہ نہیں چلایا جاسکا ہے۔ نورک گاؤں میں ماضی میں بھی امریکی ڈرون حملے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر واقعات شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پیش آئے ہیں جہاں پر امریکی حکام کا الزام ہے کہ القاعدہ کے مبینہ جنگجو موجود ہیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے فلپ آلسٹن نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ ہو سکتا ہے پاکستان اور افغانستان میں مشتبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا استعمال بلاتخصیص ہلاکتوں سے متعلق بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہو۔ مسٹر آلسٹن نے کہا تھا کہ اوباما انتظامیہ کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ پائلٹ کے بغیر اڑائے جانے والے ان ہوائی جہازوں کے اندھا دھند استعمال کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ڈرون حملوں کے ذریعے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن متعلقہ بین الاقوامی قانون کے حوالے سے اس سلسلے میں جوابدہی کا کوئی نظام رائج نہیں ہے۔
© MMX