
پچھلے ماہ بھی کراچی پولیس نے طالبان کے کئی مشتبہ کارکنوں کو بکڑا تھا جن سے بھاری اسلحہ برآمد کیا گیا
کراچی پولیس نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے اہم رکن کو شہر کے مضافاتی علاقے سے گرفتار کرنے کے بعد ان کے گھر کو مسمار کردیا ہے۔
کراچی پولیس کے سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ کے سربراہ ایس پی راجہ عمر خطاب نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تحریک طالبان کا اہم کمانڈر سہراب گوٹھ کے علاقے میں دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع پر سہراب گوٹھ کے علاقے میں نشاندہی کیے گئے ایک پٹرول پمپ پر چھاپہ مارا اور وہاں سے ایک شخص کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے شخص کی شناخت عمر خان ولد مہتاب خان کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کے ایس پی نے بتایا کہ ملزم عمر خان کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کبل گرام شانگلہ، مالاکنڈ ایجنسی کا کمانڈر بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاپے کے دوران ملزم کی نشاندہی پر اس کا گھر بھی مسمار کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم نے ’پٹرول پمپ کو اپنی مذموم کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور کالعدم تنظیم کے دیگر روپوش ارکان سے رابطے اور ملاقاتوں کے لیے ٹھکانہ بنایا ہوا تھا‘۔
انہوں نے کہا کہ ملزم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے اور اس کے نیٹ ورک میں شامل اس کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔
یاد رہے کہ دو ہفتے قبل کراچی میں پولیس نے دو الگ الگ واقعات میں سات افراد کو گرفتار کیا تھا جن کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے بتایا گیا تھا۔
کراچی میں سی آئی ڈی پولیس نے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ اور خودکش جیکٹیں برآمد کیں تھیں۔ دوسری کارروائی میں پولیس نے ایسے چار افراد کو گرفتار کیا تھا جن پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ستمبر میں کے پی ٹی آئل ٹرمینل پر حملہ کرنے کی کوشش میں ملوث تھے اور ان چاروں ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے بتایا گیا تھا۔ پولیس نے ان کے قبضے سے پچھہتر کلوگرام بارود، تین کلاشنکوف، اور ایک ٹی ٹی پستول بھی برآمد کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔
© MMIX