
سیاستدانوں کے طبقے کو چاہیے کہ جب تک ٹھوس ثبوت نہ ہوں وہ ایک دوسرے پر الزامات نہ لگائیں: وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی
پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے میڈیا پر پابندیوں کے خدشات کو رد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ایسا کوئی قانون نہیں لائے گی جس سے ذرائع ابلاغ کی آزادی سلب ہو۔
انہوں نے کہا کہ کچھ روز سے اخبارات میں یہ خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ حکومت سابقہ دور جیسی پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک ترمیمی بل لانے والی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے تین نومبر دو ہزار سات کو ایمرجینسی نافذ کرتے وقت جو پابندیاں لگائی تھیں وہ ان کی حکومت نے ختم کردی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگو لیٹری اتھارٹی ’پیمرا‘ سے انہوں نے تفصیلی بریفنگ لی ہے اور اسے ہدایت کی ہے کہ وہ ایسی کوئی ترامیم نہ لائے جس سے میڈیا پر پابندیوں کا تاثر پیدا ہو۔ انہوں نے حال ہی میں قومی اسمبلی کی اطلاعات کی وزارت کے بارے میں قائمہ کمیٹی کی جانب سے خود کش دھماکوں کی براہ راست کوریج پر پابندی کے متعلق مرتب کردہ متفقہ سفارشات کے تناظر میں کہا کہ ان پر بھی کمیٹی دوبارہ غور کرے۔

پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان نے کہا کہ حکومت قرضہ معاف کرانے والوں کی فہرست بھی ایوان میں پیش کرے گی
وزیراعظم نے احتساب کے متعلق قانون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میثاق جمہوریت کے مطابق اپوزیشن کی متفقہ سفارشات کے ساتھ وہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔آئینی ترامیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی کمیٹی جس میں تمام جماعتیں شامل ہیں وہ پیکیج تیار کر رہی ہے جس کو سترھویں ترمیم کے خاتمے میں تاخیر کی شکایت ہے وہ اپنے اراکین سے کہیں کہ کمیٹی جلد سفارشات کو حتمی شکل دے۔
انہوں نے مسلم لیگ (ق) کے فیصل صالح حیات کے اٹھائے ہوئے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اخباری بیانات کی بنا پر جب سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں تو ایسا تاثر ملتا ہے کہ ملک میں صرف سیاستدان ہی کرپٹ ہیں اور باقی سارے نیک ہیں۔
انہوں نے کہا سیاستدانوں کے طبقے کو چاہیے کہ جب تک ٹھوس ثبوت نہ ہوں وہ ایک دوسرے پر الزامات نہ لگائیں۔ وزیراعظم نے قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت مقدمات ختم کرانے والوں کی فہرست جلد ایوان میں پیش کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ’آپ کو جب معلوم پڑے گا کہ مستفید ہونے والوں میں سیاستدانوں سے زیادہ دوسرے لوگ ہیں تو پھر آپ کو شرمندگی نہ اٹھانی پڑے‘۔
بلوچستان کے متعلق وزیراعظم نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا کر بلوچستان کے متعلق پیکیج پیش کیا جائے گا اور بلوچوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ازالہ کریں گے۔ وزیراعظم کی تقریر کے دوران حکومت اور حزب مخالف کے اراکین ڈیسک بجاتے رہے۔
قبل ازیں فیصل صالح حیات نے صدر آصف علی زرداری کا نام لیے بنا ان کے حالیہ امریکی دورے کے دوران ایک مہنگے ہوٹل میں قیام اور اسلام آباد کے قریب تین سو ایکڑ زمین خریدنے کے متعلق شائع ہونے والی خبروں کو لہرایا اور کہا کہ ان کا احستاب کیجیے۔ جس کے جواب میں پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان نے کہا کہ حکومت قرضہ معاف کرانے والوں کی فہرست بھی ایوان میں پیش کرے گی۔
جب وزیراعظم چلے گئے تو پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان نے قوانین کا حوالہ دیا اور کہا کہ کسی کے کہنے سے بل کو پیش ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔ بلکہ ان کے مطابق قوائد کے تحت طریقہ کار اپنانا ہوگا۔
© MMIX