
سی این جی مالکان چاہتے ہیں کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے
آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے ہفتے میں دو دن سی این جی سٹیشنز بند کرنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے پندرہ نومبر سے پندرہ مارچ 2010 کے دوران لوڈ مینجنمٹ پالیسی کے تحت سی این جی سٹیشنز اور صنعتی صارفین کو ہفتے میں دو دن گیس کی سپلائی معطل کرنے کا جو فیصلہ کیا اس پر سی این جی سٹیشنز کے مالکان اور ان کی نمائندہ ایسوسی ایشنز سراپا احتجاج ہیں۔
آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے سینئر نائب چئرمین کرنل ریٹائرڈ شجاع انور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس فیصلے سے پہلے ان کی ایسوسی ایشن سے کوئی مشورہ نہیں کیا اور یہ حکومت کا انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن حکومت کے اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
کرنل ریٹائرڈ شجاع انور کے بقول موسم سرما میں گیس کی جو کمی ہوتی ہے وہ بہت زیادہ ہے لیکن اگر ملک کے تمام سی این جی سٹیشنز مکمل طور پر بند بھی کر دیے جائیں تو بھی یہ اس کمی کا صرف ایک چوتھائی بنتا ہے اس لیے سی این جی اسٹیشنز میں گیس کی فراہمی میں دو روز کی معطلی سے گیس کی کمی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

’ہڑتال سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہو گا‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس حکومت کے اس فیصلے سے سی این جی سٹیشنز پر کام کرنے والے بے شمار ملازمین بے روز گار ہو جائیں گے اور سی این جی کی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔
کرنل ریٹائرڈ شجاع انور کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی مجبوریوں کا احساس ہے لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں ایسوسی ایشن سے مذاکرات کرے اور کوئی درمیانہ حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ مبذول کرانے کے لیے پہلے تو ملک کے بڑے شہروں میں سی این جی سٹیشنز پر ایک دن کی ہڑتال ہوگی اور اگر حکومت نے ان کی بات نہ سنی تو تمام ملک میں ہڑتال کی جائے گی۔
لاہور کے ایک بڑے سی این جی سٹیشن کے مالک سردار طفیل احمد احتجاج کے اس طریقہء کار سے متفق نہیں۔ ان کے بقول ہڑتال سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہوگا۔
سردار طفیل احمد نے بتایا کہ ان کے سی این جی سٹیشن پر ہر روز دو لاکہ روپے کی گیس فروخت ہوتی ہے اور اگر ہفتے میں دو دن گیس فروخت نہ کی جائے تو مہینے میں سولہ لاکہ کا نقصان ہو گا اور وہ مجبور ہو جائیں گے کہ گیس سٹیشن کے ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے کے بعد پورے پاکستان میں جب بہت سے لوگ بے روز گار ہوں گے اور سڑکوں پر جا کر توڑ پھوڑ کریں اور آگ لگائیں گے تو حکومت کو خود احساس ہو گا کہ اس کا فیصلہ کتنا غیر دانشمندانہ ہے۔
مبصرین کے بقول سی این جی سٹیشنز کو دو روز کے لیے بند کرنے سے ناصرف اس سے وابستہ لوگ متاثر ہوں گے بلکہ سی این جی رکشا چلانے والے اور چھوٹی سوزوکی وین پر سامان ڈھونے والے لوگوں کے کام بھی متاثر ہوں گے۔
اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ چینی اور آٹے کے بحرانوں کے بعد اب پاکستانی عوام کو ایک نئے مسئلے کا سامنا ہے۔
© MMIX