
گیارہ ملزمان کوگرفتار کر کے ان سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے
پاکستان کے سرحدی شہر چمن میں سکیورٹی فورسز اور اغواء کاروں کے درمیان ایک مقابلے میں پانچ مبینہ اغواء کار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ان کا سرغنہ افغانستان کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
چمن پولیس کے مطابق بوغرہ کے مقام پر جمعرات کی صبح پولیس اور انسدادِ دہشتگردی فورس نے ایک مشترکہ کارروائی کی جس کے نتیجے میں پانچ مبینہ اغواء کار ہلاک اور گیارہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم ان کا سرغنہ طالب جمال زئی افغانستان کے پہاڑی علاقے کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے نے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا اور اغواء کاروں کے ٹھکانے بھی تباہ کیے۔ چمن کے مقامی صحافی اصغر اچکزئی کے مطابق سکیورٹی فورسز اور اغواء کاروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ تین گھنٹے تک جاری رہا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چمن حامد شکیل نے بتایا کہ واقعہ میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افغانی ہیں اور ان کی لاشیں شناخت کے لیے سول ہسپتال چمن لائی جارہی ہیں جبکہ گیارہ ملزمان کوگرفتار کر کے ان سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
طالب جمال زئی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ قندھار کے رہائشی ہیں اور افغانستان میں طالبان دور حکومت کے دوران کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اغواء اور قتل کے کئی مقدمات میں پاکستان اور افغانستان کو مطلوب ہیں۔ جمعرات کے واقعہ کے بعد دونوں ممالک نے سر حد پر سکیورٹی سخت کر دی ہے اور ملزم کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
© MMIX