
بل کا مقصد خواتین کو جنسی ہراساں کیے جانے سے بچانا ہے
قومی اسمبلی میں حکومت اور حزب مخالف نے خواتین کو دفاتر اور گھروں سمیت کسی بھی جگہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف ایک بل متفقہ طور منظور کر لیا ہے۔
بدھ کو یہ بل قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف محمد افضل سندھو نے پیش کیا۔اس بل میں خواتین کو ہراساں کرنے والے کو تین سال تک کی قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
اس طرح کے مقدمات کی سماعت فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کر سکے گا جبکہ اس بل کے تحت کسی شخص کو وارنٹ کے بغیر گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ بل کے مطابق جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک قابل ضمانت جرم ہو گا اور فریقین کو عدالت میں مصالحت کرنے کا اختیار ہو گا۔
خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف منظور کیے گئے اس بل کے مطابق کوئی بھی فحش حرکات، آواز دینا اور قربت کا کسی بھی طرح اظہار کرنے سمیت کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے والے شخص کو عدالت سزا دے سکتی ہے۔
جب یہ بل ایوان میں پیش کیا گیا تو ایک موقع پر حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رکن ایڈووکیٹ اعجاز ورک نے کہا کہ اب شوہروں کے تحفظ کے بل کو لانا ہو گا کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مغربی ثقافت کو فروغ حاصل ہو۔
انھوں نے کہا کہ اس بل کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل نے جواعترضات کیے ہیں انھیں خاطر میں لایا جائے۔اس پر ایم کیو ایم کی رکن خوش بخت شجاعت نے کہا کہ جب بھی خواتین کے حقوق کی بات ہوتی ہے تو اکثر لوگوں کو اسلام یاد آ جاتا ہے۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رکن رشید اکبر خان نے کہا اس بل کا غلط استعمال روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق مردوں کو ہراساں کرنے کا نکتہ بھی اس بل میں شامل ہونا چاہیے۔
مسلم لیگ ن کی ہی خاتون رکن انوشاہ رحمان نے کہا کہ اس بل سے خواتین کو بہت ریلیف ملے گا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمٰان نے کہا کہ گھروں میں کام کرنے والی ملازمہ خواتین کو بھی اس سے فائدہ ہو گا اور انھیں کوئی ہراساں نہیں کر پائے گا۔
یہ بل قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
© MMX