Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 4 november, 2009, 16:42 GMT 21:42 PST

برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کی تحقیقات

گورڈن براؤن ہاؤس آف کامن میں خطاب کر رہے تھے

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ افغان پولیس میں گھس آنے والے طالبان عناصر، پانچ برطانوی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے واقعہ میں ملوث ہوں۔

برطانوی فوج نے منگل کو ہلمند میں ہونے والے واقعہ کی ذمہ داری ’بدمعاش‘ پولیس اہلکاروں پر ڈالی ہے جب کہ برطانوی وزیر اعظم نے اس میں طالبان کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے ایک فوجی کا نام میتھویو ٹیلفورڈ ہے جو کہ ان کے خاندان والوں نے ظاہر کیا ہے۔

گورڈن براؤن نے ارکان پارلیمنٹ کو برطانوی دارالعوام میں بتایا کہ ’ابھی ہم شواہد ہی اکھٹے کر رہے ہیں اور طالبان نے اس واقع کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔‘

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا طالبان نے افغان پولیس والے کو استعمال کر لیا ہے یا پھر طالبان عناصر افغان فوج میں بھرتی ہو گئے ہیں۔

تاہم کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ایئن پینل کا کہنا ہے کہ طالبان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ہلمند صوبے کے علاقے نادے علی ضلعی میں یہ برطانوی فوجی افغان پولیس کے ایک دستے کی تربیت کر رہے تھے۔

گورڈن براؤن نے کہا کہ افغان پولیس کی تربیت افغانستان کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے اور یہ کام ختم نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہی وہ کام ہے جس سے طالبان کو سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں افغان پولیس کی تعداد میں اضافہ کرنا ہو گا اور ان کے پیشہ وارانہ معیار کو بھی بہتر کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک واقعہ کی بنیاد پر پوری افغان پولیس کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہتے۔

افغانستان میں اس سال بانوے برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد کسی ایک سال میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوج کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ہلمند صوبے میں پیش آنے والے اس واقعہ میں پانچ برطانوی فوجیوں کے ہلاک ہونےکے علاوہ چھ برطانوی اور دو افغان پولیس آفیسر زخمی بھی ہوئے ہیں۔

آئین پینل نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ حملہ آور کا نام گلبدین تھا جو حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

ہلمند ٹاسک فورس کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ڈیویڈ ویکفیلڈ نے کہا یہ حملہ برطانوی اور افغان فورسز کے درمیان کسی جھگڑے یا بڑے تنازع کا نتیجہ نہیں ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔