Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 4 november, 2009, 08:15 GMT 13:15 PST

پاکستانی میڈیا کا طریقۂ کار یا ہر حکومت کی عادت؟

پاکستانی میڈیا آج تک اپنے لیے ایک ضابطہ اخلاق پر متفق نہیں ہو سکی

دو سال قبل تین نومبر کے دن پاکستانی ذرائع ابلاغ کی زبان بندی کی گئی، ’ناپسندیدہ‘ صحافتی اداروں کو لمبے عرصے کے لیے بند رکھا گیا اور ایک ڈکٹیٹر کی ذاتی انا کو تسکین دے کر ہی یہ ادارے ایک ایک کر کے کھل سکے۔

اس تین نومبر کے حالات بالکل مختلف ہیں۔ ڈکٹیٹرشپ کی جگہ ایک منتخب حکومت ہے جس میں شامل اکثریتی جماعت خود کو جمہوریت کی چیمپئن کہتی ہے، جبکہ چھوٹی حلیف جماعتیں بھی میڈیا کی آزادی کی زبردست حامی ہیں۔ اور اس کے باوجود پاکستانی میڈیا کے سر پر حکومتی کنٹرول کی تلوار ایک بار پھر لہرا رہی ہے اور اس تلوار کی دھار اتنی ہی تیز ہے جتنی دو سال پہلے تھی۔

چند روز پہلے اطلاعات و نشریات کی قائمہ کمیٹی نے پیمرا قوانین میں ترمیم کی سفارشات طے کی ہیں جن میں بہت سی وہی شقیں شامل ہیں جن کی خالق مشرف حکومت تھی۔ ان سفارشات پر بات کرنا تو قبل از وقت ہو گا کیونکہ ابھی انہیں قومی اسمبلی میں پیش کیا جانا ہے جہاں بحث کے بعد ان میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے، لیکن مقامی میڈیا میں چیخ و پکار کا سلسلہ اسی دن سے جاری ہے جس دن قائمہ کمیٹی کا اجلاس ’بند کمرے‘ میں ہوا اور وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ نے اس بارے میں صرف اتنا بتایا کہ ان پر اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے دباؤ تھا کہ میڈیا کو ’ذمہ دار‘ بنایا جائے اور یہ کہ کمیٹی کی سفارشات متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں۔

کیا پاکستانی میڈیا کے طریقہ کار میں بہتری کی ضرورت ہے یا ہر حکومت کو اپنے بحرانوں کا ملبہ میڈیا پر ڈالنے کی عادت ہو چکی ہے؟ شاید دونوں ہی باتیں درست ہیں۔

موجودہ حکومت اگر جمہوری روایات کو اپنی میراث سمجھتی ہے تو جنرل مشرف اور ان کے حواری بھی میڈیا کو آزادی دینے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے تھے۔ لیکن جس طرح مشرف حکومت کو میڈیا پر پابندیاں لگانے کا خیال اس وقت آیا جب وہ عوام میں انتہائی غیر مقبول ہو چکی تھی، پیپلز پارٹی کو بھی میڈیا کی خامیاں تبھی یاد آئیں جب اس کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔

موجودہ حکومت اگر جمہوری روایات کو اپنی میراث سمجھتی ہے تو جنرل مشرف اور ان کے حواری بھی میڈیا کو آزادی دینے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے تھے۔ لیکن جس طرح مشرف حکومت کو میڈیا پر پابندیاں لگانے کا خیال اس وقت آیا جب وہ عوام میں انتہائی غیر مقبول ہو چکی تھی، پیپلز پارٹی کو بھی میڈیا کی خامیاں تبھی یاد آئیں جب اس کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔

دونوں حکومتوں کے میڈیا مخالف اقدامات میں یہ قدر بھی مشترک ہے کہ پیشہ وارانہ معیار کو بہتر بنانے کی بجائے ان کا زور حکومت پر ہونے والی تنقید کو بند کروانا اور چند افراد کی ذاتی پسند ناپسند کو پورے میڈیا پر ٹھونسنا ہے۔ جیسے قائمہ کمیٹی میں شامل مسلم لیگ ق کی رکن قومی اسمبلی بشریٰ رحمان نے ٹی وی پر کمیٹی کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ حکمرانوں کی تضحیک کر رہا ہے اور نظریہ پاکستان کے خلاف کام کر رہا ہے۔ انہوں نے جذباتی ہو کر کہا ’میں نے خود دیکھا اور سنا ٹی وی کا ایک اینکر کہہ رہا تھا کہ انڈیا کا کلچر ہمارے کلچر سے بہتر ہے۔ میں تو یہ بالکل برداشت نہیں کر سکتی۔‘

اس کے جواب میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر گرمی برداشت نہ ہوتی ہو تو کچن سے باہر نکل جائیں۔ یوں بھی نظریہ پاکستان، اسلامی روایات، قومی سلامتی، اور اخلاقی اقدار ایسی اصطلاحات ہیں جن کی تشریح اپنی مرضی سے کر کے کسی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ اور مبہم اصطلاحات کو قانون کا حصہ بنانے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔

لیکن پاکستانی میڈیا بھی حکومتوں کے اس کھیل میں برابر کا شریک ہے۔ ایک طرف صحافی برادری ہے جو ہر پابندی پر شور مچانے، کالی پٹیاں باندھنے اور آزادیِ صحافت پر تقریریں کرنے میں آگے آگے ہوتی ہے لیکن آج تک اپنے لیے ایک ضابطہ اخلاق پر متفق نہیں ہو سکی۔ اور دوسری جانب میڈیا مالکان ہیں جن کا پہلا اور آخری مقصد منافع کمانا ہے اور جنہوں نے ہر موقع پر صحافت کی آزادی پر نفع کمانے کی آزادی کو ترجیح دی ہے۔

لیکن پاکستانی میڈیا بھی حکومتوں کے اس کھیل میں برابر کا شریک ہے۔ ایک طرف صحافی برادری ہے جو ہر پابندی پر شور مچانے، کالی پٹیاں باندھنے اور آزادیِ صحافت پر تقریریں کرنے میں آگے آگے ہوتی ہے لیکن آج تک اپنے لیے ایک ضابطہ اخلاق پر متفق نہیں ہو سکی۔ اور دوسری جانب میڈیا مالکان ہیں جن کا پہلا اور آخری مقصد منافع کمانا ہے اور جنہوں نے ہر موقع پر صحافت کی آزادی پر نفع کمانے کی آزادی کو ترجیح دی ہے۔

دو برس پہلے جب جنرل مشرف نے تمام نیوز ٹی وی چینل بند کروا دیے اور میڈیا کے نمائندوں کو دعوت دی کہ جیسے ہی وہ کسی ضابطہ اخلاق پر اتفاق کر لیں گے پابندی اٹھا لی جائے گی، تو بھی صحافتی تنظیمیں مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے میں ناکام رہیں اور چند ٹی وی چینل مالکان نے اپنے طور پر ایک ضابطہ بنا کر اور حکومتی شرائط مان کر اپنا کاروبار چلانے کا انتظام کیا۔

آج بھی اس ملک کے ٹی وی چینل ان مسلمہ صحافتی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں جن پر دنیا کے ترقی یافتہ میڈیا میں مکمل اتفاق پایا جاتا ہے۔ مثلاً جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی عورتوں اور بچوں کو نہ صرف دکھانا بلکہ ان کا نام پتہ بھی بتانا، لائیو ٹاک شو میں ایک مہمان کو اجازت دینا کہ وہ دوسری مہمان پر جنسی نوعیت کی بہتان تراشی کرے اور پھر اس پروگرام کو فخریہ طور پر بار بار دکھانا، مسابقت کی دوڑ میں بغیر تصدیق خبر چلانا اور غلط ثابت ہونے پر بغیر معذرت یا تصحیح کے محض اسے ہٹا دینا۔۔۔ اور حکومتِ وقت کی مخالفت اور حمایت دونوں کوششوں میں معروضی حدوں سے تجاوز کرنا۔

کل کی طرح آج بھی حکومت کا مسئلہ یہ پیشہ وارانہ خامیاں نہیں لیکن میڈیا پر پابندیاں لگانے کے لیے انہیں کل بھی استعمال کیا گیا، آج بھی کیا جا سکتا ہے اور آئندہ کی حکومتوں کے لیے بھی یہ راستہ کھلا رہے گا جب تک پاکستانی صحافی خود اپنا احتساب کرنے کا کوئی نظام وضع نہیں کرتے اور اس نظام پر سختی سے عمل نہیں کرتے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔