Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 5 november, 2009, 03:58 GMT 08:58 PST

لاہور: موٹروے حملہ آور کون تھا؟

موٹروے پر سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے

پولیس ابھی تک یہ معلوم نہیں کرسکی کہ موٹر وے پر بابو صابو انٹر چینج پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والا حملہ آور کہاں سے آیا تھا اور وہ کس طرح انٹر چینج تک پہنچا۔

دو نومبر کی شام لاہور میں بابو صابو موٹر وے انٹر چینج کے نزدیک ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں حملہ آور ہلاک جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت عام شہر زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس نے اس گتھی کو سلجھنے کے لیے موٹر وے پولیس سے مدد مانگی ہے۔ ایس پی انویسٹیگیشن شعیب خرم کے مطابق موٹر وے پولیس کے آئی جی کو ایک خط لکھا گیا ہے تاکہ حملہ آور کے چہرے کی تیار کی جانے والی تصویر کو موٹر وے کے مختلف انٹر چینجز کو فراہم کی جاسکے اور اس طرح حملہ آور کی شناخت میں مدد ملے سکے۔ اس کے علاوہ دو نومبر کو موٹر وے پر سفر کرنے والی گاڑیوں کا ریکارڈ بھی مانگا ہے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والا حملہ آور کی عمر تیرہ سے چودہ برس کے درمیان ہے اور عمر کم ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں نادرا سے کوئی ریکارڈ نہیں ملے سکا۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والا حملہ آور کی عمر تیرہ سے چودہ برس کے درمیان ہے اور عمر کم ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں نادرا سے کوئی ریکارڈ نہیں ملے سکا

ایس پی شعیب خرم کے بقول موٹر وے پر مختلف انٹر چینجز پر آنے والی گاڑیوں اور اس میں سوار افراد کی ویڈیو تیار کی جاتی ہے ۔ اس لیے حملہ آور انٹر چینجز کے عملے کو فراہم کرنے کے لیے کہا گیا تاکہ ویڈیو ریکاڈنگ کو چیک کر کے یہ معلوم کیا جاسکے کہ وہ کہاں سے موٹر وے پر داخل ہوا تھا اور کس گاڑی پر اس نے سفر کیا۔

ایس پی کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب کو بھی ایک خط ارسال کی گئی ہے جس میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ خودکش حملہ آور کی شاخت کرنے والے شخص کو انعام دینے کا اعلان کیا جائے۔

پولیس نے حملہ آور کی تصویر بھی میڈیا کو جاری کی ہے تاکہ انہیں تفتیش کے سلسلے میں کچھ مدد ملےسکے۔

آئی جی پولیس پنجاب طارق سلیم ڈوگر نے خودکش حملے کی تفتیش کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے تاہم ابھی تک تفتیش میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ پولیس اس بارے میں بھی ابہام کا شکار ہے کہ حملہ آور اس گاڑی میں سوار تھا جو دھماکے کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھی۔

پولیس کے مطابق خودکش حملے میں تباہ ہونے والی گاڑی کے زخمی مالک ملک اعجاز کا کہنا ہے کہ اس کی گاڑی میں کوئی خودکش حملہ آور سوار نہیں تھا جبکہ زخمی پولیس کانسٹیبل لطیف نے اس موقف کی تردید کی کہ حملے میں تباہ ہونے والی گاڑی میں ایک ہی شخص سوار تھا ۔ زخمی پولیس کانسٹیبل کا کہنا ہے کہ حملہ آور گاڑی سے باہر آیا ہے۔

ایس پی انویسٹیگیشن شعیب خرم کا کہنا ہے کہ گاڑی کے مالک ملک اعجاز اور کانسٹیبل لطیف دونوں ہی ہسپتال میں زیر علاج ہیں تاہم ان دونوں کا موقف ریکارڈ ہونے کے بعد اصل صورتحال سامنے آجائے گی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔