Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 4 november, 2009, 13:07 GMT 18:07 PST

سراروغہ کلیئر، تیس شدت پسند ہلاک

سراروغہ میں بڑی مقداد میں اسلح اور بارود برآمد ہوا ہے

پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف جاری آپریشن راہ نجات میں شدت پسندوں کے ایک اہم علاقے لدھا کی طرف پیش قدمی کی ہے جہاں گلیوں میں شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تیس دہشت گرد ہلاک اور آٹھ سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سراروغہ کے زیادہ تر حصے کو کلئیر کردیا ہے جبکہ اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں سولہ شدت پسند مارے گئے۔ لڑائی میں سات سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے جن میں دو افسران اور ایک جونئیر کمیشنڈ افیسر بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز شدت پسندوں کے ایک اہم علاقے لدھا میں داخل ہوگئے ہیں جہاں گلیوں میں آمنے سامنے شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ اس لڑائی میں دس عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مکین اور رزمک کے محور میں قانون نافذ کرنے والے اداراوں نے چائنا گاؤں کو مکمل طورپر محفوظ بنانے کے بعد وہاں اپنی پوزیشن مستحکم کردی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے مختلف پناہ گاہوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا اور کثیر تعداد میں بم اور دھماکہ خیز مواد ناکارہ بنادیا ہے۔ فوج کے مطابق اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں چار دہشت گرد مارے گئے۔

ادھر سوات اور مالاکنڈ میں جاری آپریشن راہ راست میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران چوبیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ دو دہشت گردوں نے رضاکارانہ طورپر خود کو حکام کے حوالے کردیا ہے۔ تاہم بیان میں ان دہشت گردوں کے نام نہیں دیئے گئے ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔