
تہتر فیصد لوگوں کی رائے میں ملک میں دہشت گردی کی شرح میں اضافہ جبکہ سولہ فیصد عوام کے خیال میں کمی آئی ہے
پاکستان میں ایک تازہ سروے کے مطابق چوالیس فیصد لوگ حکومت کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو ناکام جبکہ اتنے ہی لوگوں نے ان کوششوں کو کسی حد تک کامیاب قرار دیا ہے۔ تاہم محض نو فیصد عوام حکومتی اقدامات کو بہت کامیاب پاتی ہے۔
ایک تحقیقاتی تنظیم گیلانی ریسرچ فاونڈیشن کے گیلپ پاکستان کے ذریعے کیے جانے والے اس سروے کے مطابق شہری علاقوں میں بسنے والے افراد کا نصف یعنی چھپن فیصد موجودہ حکومت کے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات سے مطمئین نہیں ہیں۔ دیہی علاقوں میں تاہم اڑتالیس فیصد اس بات کے معترف ہیں کہ حکومتی اقدامات کی افادیت ہے۔
اس سروے کے دوران دو ہزار سات سو پینسٹھ افراد سے چاروں صوبوں میں گزشتہ ماہ یہ رائے جاننے کی کوشش کی گئی تھی۔
سروے کے مطابق اکاون فیصد عوام فوجی آپریشن کی حامی ہے جبکہ تیرہ فیصد اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تاہم چھتیس فیصد ایسے بھی ہیں جو ابہام کا شکار ہیں اور نہیں جانتے کہ انہیں اس کارروائی کی حمایت کرنی چاہیے یا مخالفت۔
قدرے دلچسپ بات پینتیس فیصد اکثریت کے خیال میں امریکہ اس فوجی کارروائی کی بڑی وجہ ہے۔ پچیس فیصد طالبان جبکہ اکتیس فیصد حکومت پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھراتے ہیں۔ انتالیس فیصد کے نزدیک یہ امریکہ کی جنگ ہے جبکہ سینتیس فیصد اسے پاکستان کی جنگ قرار دیتے ہیں۔
سروے کے مطابق سینتیس فیصد کے خیال میں فوجی کارروائی سے حالات بہتر کی بجائے خراب ہوں گے جبکہ چھتیس فیصد کو بہتری کی امید ہے۔
تہتر فیصد لوگوں کی رائے میں ملک میں دہشت گردی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ محض سولہ فیصد عوام کے خیال میں شدت پسندی میں کمی آئی ہے۔
© MMIX