
علامہ اقبال ایکسپریس کے ڈرائیور نے ریڈ سگنل نہیں دیکھا تھا: ایس ایس پی ریلوے
پاکستان کے شہر کراچی کے قریب مسافر ٹرین علامہ اقبال ایکسپریس کے مال بردار ریل گاڑی سے تصادم میں سترہ افراد ہلاک اور 44 زخمی ہوگئے ہیں۔
منگل کو یہ حادثہ قائد آباد کے قریب جمعہ گوٹھ کے مقام پر پیش آیا۔ ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ علامہ اقبال ایکسپریس سیالکوٹ سے کراچی آ رہی تھی جب کہ مال گاڑی اندرون ملک جا رہی تھی۔ ایس ایس پی ریلوے مظفر شیخ کا کہنا ہے کہ حادثے میں سترہ افراد ہلاک اور اڑتیس زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سترہ افراد میں سے تین کی لاشیں ابھی بھی ٹرین میں پھنسی ہوئی ہیں۔
حادثے کے بعد ایدھی، ریلوے اور شہری حکومت کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں۔ حادثے میں علامہ اقبال ایکسپریس کے انجن کے ساتھ جڑی پہلی دو مسافر بوگیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ایک بوگی کے دروازے بھی بند ہو گئے جس کی وجہ سے زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو کھڑکیاں کاٹ کر نکالا گیا۔ زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
حادثے کی وجہ سے اندرون ملک ریلوے کی آمدو رفت ابھی تک معطل ہے اور ٹرینوں کو حیدرآباد، جھمپیر اور کوٹری کے مقام پر روکا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ تین سے چار گھنٹوں میں ٹریک بحال کردیا جائے گا۔ ریلوے کی کرین ٹرین جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہے اور متاثرہ ٹرینوں کو ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایس پی ریلوے کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ سے آنے والی علامہ اقبال ایکسپریس کے ڈرائیور نے ریڈ سگنل نہیں دیکھا تھا جس وجہ سے حادثہ پیش آیا ہے۔
© MMIX