
ایم کیو ایم اور جمعت علمائے اسلام نے بھی این آر او پر حکومت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا تھا
پاکستان کی حکمران جماعت نے قومی مصالحتی آرڈیننس ’این آر او‘ کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کے پیش نظر اسے پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ پیر کی شب حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد صدر آصف زرداری کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جائے گا۔
صدارتی ترجمان نے کہا کہ اجلاس میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے موقف کی حمایت کی کہ این آر او کی قسمت کا فیصلہ حلیف جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق حکومت نے این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے غیر اعلامیہ اتحاد کی وجہ سے کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم) نے پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں کھل کر این آر آو کی مخالفت کی اور اکھٹے واک آؤٹ کیا۔ حکومت کی حلیف جماعت ایم کیو ایم نے بھی این آر آو کے خلاف بیان بازی شروع کر دی ہے۔ حکمران اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) نے بھی این آر او کی حمایت کرنے سے گریز کیا۔
صدر آصف زرداری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں رضا ربانی، قمر زمان کائرہ، نوید قمر، جہانگیر بدر، محمد افضل سندھو ، رحمان ملک، بابر اعوان، فوزیہ وہاب ، راجہ پرویز اشرف، نیئر حسین بخاری اور رخسانہ بنگش نے شرکت کی۔
صدارتی ترجمان کے مطابق صدر اور وزیر اعظم نے این آر آو کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی۔
مسلم لیگ (ن) نے مجوزہ ترمیمی بل پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے موجودہ حالت میں بل منظوری کے لیے پیش کیا تو جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت ابھی اس بارے میں مشاورت کر رہی ہے اور کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جس سے پارلیمان، جمہوری نظام یا ملکی وقار پر کوئی حرف آئے۔
مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی نےاسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کا نام لیے بغیر انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کسی غیر جمہوری قوت کا آلہ کار نہیں بنیں گے مگر تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ قرآن کی قسم اٹھاتے ہیں پھر وعدہ خلافی کرتے ہیں، معاہدے کرتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہے۔‘
چوہدری نثار علی خان نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ حالات کو اس نہج پر نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ اس دوران مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر پرویز الہیٰ نے جب ’این آر او‘ کی مخالفت میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاہ قانون ہے اور وہ منظور نہیں ہونے دیں گے۔
© MMIX