اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے فوجی افسران پر مشتمل ایک علیحدہ ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اپنے تئیں اس کی تحقیقات کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ واقعہ کنٹونمنٹ کے علاقے میں ہوا ہے اس لیے فوجی اہلکار اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

خودکش حملے میں حملہ آور سمیت تینتیس افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہوگئے تھے
اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی چھاؤنی کے علاقے میں واقع شالیمار پلازہ کی پارکنگ میں پیر کو ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی آپریشن یاسین فاروق کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
ٹیم کے دیگر ارکان میں انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی)، آئی بی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اہلکار شامل ہیں۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے ایک اہلکار عبدالرشید کے مطابق اس خودکش حملے میں بارہ کلو سے زائد دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے حادثہ سے جو شواہد اکٹھے کیے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ خودکش حملہ آور نے اس قسم کا بارود استعمال کیا ہے جو اسلحہ فیکٹریوں میں دستی بم اور دوسرا اسلحہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے فوجی افسران پر مشتمل ایک علیحدہ ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اپنے تئیں اس کی تحقیقات کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ واقعہ کنٹونمنٹ کے علاقے میں ہوا ہے اس لیے فوجی اہلکار اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
اُدھر اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے فوجی افسران پر مشتمل ایک علیحدہ ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ واقعہ کنٹونمنٹ کے علاقے میں ہوا ہے اس لیے فوجی اہلکار اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
جائے حادثہ سے پولیس کو مبینہ خودکش حملہ آور کے چہرے کے کچھ حصے ملے تھے جن کی سرجری کے لیے کھاریاں میں واقع فوجی ہسپتال سی ایم ایچ بھجوا دیا گیا ہے جس کے بعد مبینہ خودکش حملہ آور کا خاکہ تیار کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ خودکش حملہ آور کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے اس کے جسم کے کچھ حصوں کو لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔اُدھر راولپنڈی کی انتظامیہ نے اس واقعہ کے بعد موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ خواتین اور بچے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
اس واقعہ کے بعد علاقے میں موجود مشنری سکول ایک مرتبہ پھر بند کر دیےگئے ہیں۔یہ سکول دوہفتوں کے بعد وقوعہ کے روز ہی کھلے تھے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں بھی ڈبل سواری پر پابندی ہے اور پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمات درج کریں۔
© MMIX