
حکومت بہت جلد صدر اور پارلیمان میں اختیارات کے توازن پیدا کرنے کا بل پیش کرے گی: گیلانی
پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے منگل کو قومی اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کی مخالفت کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے اور این آر او کے بارے میں فیصلہ عدالت پر چھوڑتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اپنے اس فیصلے سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کو بھی مطلع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آر او کو پارلیمان میں پیش نہ کرنے کے فیصلے سے ایوان کے وقار میں اضافہ ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو اس وقت کئی اہم مسائل در پیش ہیں اور ایسے میں یہ وقت ایوان کو تقسیم کرنے کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ این آر او کے حق میں فی ووٹ بیس کروڑ میں خریدا جا رہا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ آج کی سیاسی قیادت بالغ نظر ہے اور ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکا ہے جس کی مثال سینیٹ کی گزشتہ الیکشن ہے جس میں اکثر سینیٹر بلا مقابلہ منتخب کروائے گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بہت جلد صدر اور پارلیمان میں اختیارات کے توازن پیدا کرنے کا بل پیش کرے گی۔ انہوں نے میثاق جمہوریت پر عمل کرتے ہوئے سترویں ترمیم کے خاتمے کا بل بھی بہت جلد پیش کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت بہت جلد صدر اور پارلیمان میں اختیارات کا توازن پیدا کرنے اور میثاق جمہوریت پر عمل کرتے ہوئے سترہویں ترمیم کے خاتمے کا بل پیش کرے گی۔ان کے مطابق حکومت بہت جلد عوامی عہدے رکھنے والوں کے احتساب کا بل بھی میثاق جمہوریت کی روح کے مطابق ایوان میں پیش کرے گی۔
منگل کو ایوان میں نجی کارروائی کا دن تھا لیکن اتفاق رائے سے معمول کا ایجنڈا معطل کرکے تین نومبر دو ہزار سات کو پرویز مشرف کی جانب سے آئین معطل کرنے، ایمرجنسی لگانے اور ججوں کو برطرف کرنے کے خلاف یوم جمہوریت منایا۔
اس موقع پر ایوان میں وزیراعظم سمیت حکمران پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی مسلم لیگ (ن) کے اراکین اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر آئے۔ حکومت اور اپوزیشن نے منگل کو قومی اسمبلی میں آمریت کا راستہ روکنے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کے اپنے عزم کا اعائدہ کرتے ہوئے تمام مسائل بات چیت اور مصالحت کے ساتھ طے کرنے کا اعلان کیا۔
کارروائی شروع ہوئی تو وزیر محنت سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ دو برس قبل آج کے دن ملک میں مارشل لاء تھا لیکن آج جو جمہوریت قائم ہے اور یہ ان کی لیڈر بینظیر بھٹو کی قربانی کا نتیجہ ہے۔
جس پر قائد حزب مخالف چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وہ وزیر کے جذبات کی قدر کرتے ہیں لیکن یہ وقت زبانی کلامی دعوؤں کا نہیں بلکہ عمل کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتے جس سے نا اتفاقی پیدا ہو لیکن وہ حکومت کو کہنا چاہتے ہیں کہ فوری طور پر میثاق جمہوریت پر عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ جب آئین توڑنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے تو آمریت کا راستہ رکے گا اور کوئی ’مائنس ون فارمولا‘ کی بات نہیں کرے گا۔

یہ وقت زبانی کلامی دعوؤں کا نہیں بلکہ عمل کا ہے: چوہدری نثار
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر کہا کہ پارلیمان میں ’این آر او‘ کے بارے میں تنقید کی گئی اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کو ایک طرف رکھ دیا جائے اور جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اتفاق رائے سے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی پیپلز پارٹی کی قائد، کارکنوں اور اپوزیشن کی قربانیوں اور جدوجہد کا مشترکہ تحفہ ہے۔ وزیراعظم نے چینی کی قلت، گیس کی لوڈشیڈنگ، دھان کی فصل کی قیمتوں کے تعین سمیت فوری عوامی مسائل حل کرنے کے لیے کابینہ کا ایمرجنسی میں اجلاس بلا رہے ہیں۔
انہوں نے میثاق جمہوریت پر جلد عمل کرنے کا ایک بار پھر وعدہ کیا اور کہا کہ صدر کے اسمبلی توڑنے والے اختیار ختم کرنے سمیت صدر اور پارلیمان میں اختیارات کے توازن پیدا کرنے کے لیے حکومت بل پیش کرے گی۔ ان کے مطابق احتساب کا قانون بھی میثاق جمہوریت میں طے شدہ اصولوں پر پیش کریں گے۔
بعد میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وہ ایوان سے واک آؤٹ نہیں کر رہے بلکہ پہلے سے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق وہ فوجی آمر کے تین نومبر کے اقدامات کے خلاف پارلیمان سے سپریم کورٹ تک جلوس نکالیں گے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو بھی شرکت کی دعوت دی لیکن جلوس میں مسلم لیگ (ن) کے ہی لوگ نظر آئے۔
سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزانے اجلاس کی کارروائی بدھ کی شام چار بجے تک ملتوی کردی۔
© MMX