
صدارتی عہدے کے لیے نااہل ہونے کے لیے چھوٹی سے چھوٹی عدالت میں جرم ثابت ہونا کافی ہے: افتخار گیلانی
حکومت کی جانب سے متنازعہ قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش نہ کیے جانےکے اعلان کے بعد ماہرین قانون کی جانب سے این آر او کی قانونی حیثیت اور خود آصف علی زرداری کے کرسی صدارت پر براجمان رہنے کے بارے میں متضاد آراء سامنے آ رہی ہیں۔
بعض آئینی ماہر کہتے ہیں کہ این آر او اٹھائیس نومبر کو سپریم کورٹ کی طے شدہ مدت پوری کرنے کے بعد اپنی موت آپ مر جائے گا جس کے بعد آصف علی زرداری صدر مملکت بننے کے اہل نہیں رہیں گے۔ ایک اور قانونی نکتہ نظر کے مطابق این آر او ختم ہونے کے بعد آصف علی زرداری کو صدر مملکت کی حیثیت سے آئین کے تحت ملنے والی سہولت کے باعث ان کے خلاف کوئی مقدمہ کسی عدالت میں چلایا نہیں جا سکے گا اس طرح این آر او کی عدم موجودگی میں بھی ان کی کرسی صدارت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے درمیان معاہدے کے بعد جاری ہونے والے قومی مصالحتی آرڈیننس کے ذریعے حکومت پاکستان نے سنہ انیس سو چھیاسی اور انیس سو ننانوے کے درمیان دائر ہونے والے ایسے فوجداری مقدمات سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا جو مبینہ سیاسی وجوہات کی بنیاد پر دائر کیے گئے تھے۔
اس آرڈیننس کے ذریعے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے سینکڑوں (بعض دعووں کے مطابق ہزاروں) افراد پر مختلف الزامات کے تحت دائر مقدمات کالعدم ہو گئے تھے۔
این آر او کے ذریعے بے گناہ قرار پانے کے بعد آصف علی زرداری عوامی عہدوں کے اہل قرار پائے اور پرویز مشرف کی رخصتی کے باعث کرسی صدارت پر فائز ہوئے۔
اکتیس جولائی کو سپریم کورٹ نے صدر مشرف کی جانب سے تین نومبر دو ہزار سات کے بعد جاری کردہ تمام آرڈیننس تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے منظور کروانے کا حکم جاری کیا۔
بیشتر ماہرینِ قانون اس نکتے پر بظاہر متفق نظر آتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے مقرر کردہ تین ماہ کے دوران اگر این آر او سمیت مشرف دور کے کسی بھی آرڈیننس کو پارلیمنٹ سے منظور نہ کروایا جا سکا تو وہ منسوخ تصور ہو گا۔
آراء میں تضاد کا معاملہ اس نکتے کے بعد سامنے آتا ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور معروف آئینی ماہر عابد حسن منٹو کے مطابق این آر او کے رہنے یا نہ رہنے سے آصف زرداری کی صدارت کو قانونی لحاظ سے کوئی فوری خطرہ درپیش نہیں ہے۔
’آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت صدر مملکت کے خلاف کوئی عدالت نہ تو مقدمہ دائر کر سکتی ہے اور نہ ہی صدر کے خلاف پہلے سے دائر کسی مقدمے کی سماعت کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ آصف زرداری کے خلاف دائر مقدمات میں مدعی عمومی طور پر حکومت ہی ہے اور اب چونکہ ان کی اپنی حکومت ہے تو یہ مقدمات ویسے بھی عدم پیروی کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘

صدر مملکت کی اہلیت صرف ثابت شدہ جرم ہی سے متاثر ہو سکتی ہے: عابد حسن منٹو
اس سوال پر کہ کیا این آر او ختم ہونے سے آصف علی زرداری کی صدر کے عہدے کے لیے اہلیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، عابد حسن منٹو کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کی اہلیت صرف ثابت شدہ جرم ہی سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ’صدر مملکت یا کسی بھی عوامی عہدے کے لیے کسی بھی فرد کی اہلیت صرف جرم ثابت ہونے پر ہی متاثر ہو سکتی ہے۔ زیرالتوا یا زیرسماعت مقدمات کا صدارتی اہلیت کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
لیکن ایک اور آئینی ماہر سید افتخار گیلانی ایسا نہیں سمجھتے۔ ’کسی بھی شخص کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ بددیانت یا بد عنوان ہے یا کسی بھی وجہ سے بری شہرت کا حامل شخص صدر پاکستان کے عہدے کا امیدوار نہیں ہو سکتا اور این آر او ختم ہونے کے بعد آصف زرداری کے خلاف بیسیوں ایسے الزامات ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گے جن کی بنیاد پر ان کی صدارتی اہلیت کو عدالت کے سامنے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔‘
افتخار گیلانی کے مطابق ایسے متعدد مقدمات ہیں جن میں آصف زرداری کے خلاف جرم ذیلی عدالتوں میں ثابت ہو چکے ہیں اور یہ مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کی صورت میں زیرسماعت ہیں۔
’صدارتی عہدے کے لیے نااہل ہونے کے لیے چھوٹی سے چھوٹی عدالت میں جرم ثابت ہونا کافی ہے۔‘
افتخار گیلانی کے مطابق صدر مملکت کا عہدہ اتنا محترم ہے کہ اس پر متنازعہ حیثیت کے فرد کی موجودگی کا قانونی، اخلاقی اور سیاسی جواز نہیں بنے گا۔ ’آخر میں یہ معاملہ عدالت کے سامنے جائے گا اور یورپی نظام کے خلاف جہاں اخلاقی اور روایاتی معاملات کی چھان بین کا علیحدہ نظام ہے، پاکستانی عدالتیں قانونی کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور روایات کی بھی محافظ ہیں اور قانونی نہ سہی اخلاقی یا روایات کی پاسداری کے پیش نظر آصف زرداری کے صدر رہنے کے معاملے کو عدالت کے سامنے لایا جا سکتا ہے۔‘
عابد حسن منٹو اور افتخار گیلانی صدر زرداری اور این آر او کے حوالے سے ایک بات پر متفق ہیں اور وہ یہ کہ این آر او کے خاتمے کی صورت میں آصف علی زرداری کو سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے اس متنازعہ قانون کا کوئی سیاسی متبادل تلاش کرنا ہو گا بصورت دیگر ان کے صدر مملکت رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ عدالت عظمیٰ کے سامنے طے ہوگا۔
© MMIX