
دو سال پہلے وکلاء اور شہریوں نے جنرل مشرف کی ایمرجنسی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا تھا
پاکستان میں وکلا نے سابق فوجی صدر جنرل پرویزمشرف کی طرف سے تین نومبر دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے لگانے اور اعلیْ عدلیہ کی ججوں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے اقدامات کے خلاف اس دن یوم سیاہ کے طور پر منایا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعلان کی روشنی میں ملک بھر کے وکیلوں نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاسوں کے بعد ریلیاں بھی نکالیں۔ وکلا تنظیموں کی طرف سے بار کونسلوں اور بار اسوسی ایشنوں کی عمارت پر سیاہ پرچم لہرائے گئے اور وکیلوں نے اپنے بازووں پر کالی پٹیاں باندھیں۔
وکلا کے علاوہ سیاسی جماعتوں اور صحافی تنظیموں نے بھی تین نومبر کے دن کو یوم سیاہ کے طور منایا۔ اسلام آباد میں مسلم لیگ نون کے ارکان پارلیمنٹ نے تین نومبر کے اقدامات کے خلاف ریلی نکالی جو پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہو کر سپریم کورٹ پہنچ کر ختم ہوئی۔ اس ریلی میں پیپلز پارٹی کے وزراء بھی شامل ہوئے۔ احتجاج کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے سیاہ پٹیاں باندھیں تھیں اور جو کتبے اٹھا رکھے تھے ان پر سابق جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کے خلاف نعرے درج تھے
ادھر پنجاب کےصوبائی دارلحکومت میں لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار کے الگ الگ اجلاس ہوئے جس میں وکلا رہنماؤں نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں اور اگر آزاد عدلیہ کے خلاف کوئی سازش کی گئی تو اسے ناکام بنادیں گے۔
ان اجلاسوں کے بعد لاہور بار ایسوسی ایشن کے ارکان نے ایوان عدل سے پی ایم جی چوک تک جبکہ سپریم کورٹ بار اور لاہور ہائی کورٹ بار کے وکیلوں نے جی پی او چوک سے سٹیٹ بینک چوک تک ریلیاں نکالیں۔
لاہور کے علاوہ کراچی ، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی وکلا نے یوم سیاہ مناتے ہوئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور بار ایسوسی ایشنوں کی سطح پر اجلاس کیے ۔
© MMIX