
فوج نے کنی گورم پر قبضہ کر لیا ہے
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران شدت پسندوں کے دفاعی نظام کو توڑ دیا گیا ہے اور کنی گورم سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا ہے۔
فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے پیر کے روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کے حوصلے ٹوٹ رہے ہیں اور ان کا کافی نقصان ہو رہا ہے۔ سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ فوج نے کنی گورم پر مکمل کنٹرول کر لیا ہے جو شدت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سرچ آپریشن کے دوران کنی گورم میں آئی ای ڈیز بنانے کی دو فیکٹریاں ملی ہیں اور ان کا صفایاکیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے اسی علاقے میں ہتھیاروں سے لدے پانچ ٹرکوں کو بھی پکڑا ہے۔
فوجی ترجمان کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران بارہ شدت پسندوں کو مار دیا گیا ہے اور کافی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ شمال میں مکین کی جانب پیش قدمی ہو رہی تھی، اس میں گاؤں چینا کو شدت پسندوں سے خالی کروا لیا گیا ہے۔
اطہر عباس نے بتایا کہ سراروغہ کے ارد گرد پوزیشن مستحکم کی جا رہی ہیں، تین طرف سے گھیرہ تنگ کیا جا رہا ہے اور جلد ہی وہاں کنٹرول کیا جائے گا۔
بریفنگ کے دوران صحافیوں کو نقشے کی مدد سے کنٹرول کیے گئے علاقے دکھائے گئے اور قبضے میں لیے گئے ہتھیاروں کی بھی تفصیلات بتائی گئی۔
ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے علاقوں کی طرف جو تین اہم راستے جا تے ہیں، ان تینوں راستوں پر فوج کا مکمل کنٹرول ہے اور گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فوجی آپریشن کے دوران جو بھارتی ہتھیار اور مواد پکڑا گیا ہے، اس کے بارے میں دفتر خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے۔ اب یہ دفتر خارجہ کا کام ہے کہ وہ کس طرح دوسری حکومتوں کے ساتھ معاملہ اٹھاتی ہے۔
اس موقع پر وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ بھی موجود تھے، انہوں نے جنوبی وزیرستان کے متاثرین کے بارے میں بتایا کہ حکومت نے متاثرین کے لیے میڈیکل کی سہولیات فراہم کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹانک میں متاثرین کے لیے پینے کے پانی کا مسئلہ تھا جس کو حل کر دیا گیا ہے اور وہاں فوری طور پر تین ٹیوب ویل لگائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح تین ٹیوب ویل ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی لگائے جا رہے ہیں۔
قمر زمان کائرہ کے مطابق متاثرہ علاقوں سے تقریباً تین ہزار شاگرد بھی آئے ہوئے ہیں جن کے لیے تعلیم کا بندوبست کیا گیا ہے اور ان کے لیے دو سو اساتذہ کا بھی انتظام کر لیا گیا ہے۔ سکولوں میں شام کی شفٹ شروع کی گئی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نادرا نے اب تک اٹھارہ ہزار چھ سو اٹھاسی خاندانوں کی رجسٹریشن کا کام مکمل کر لیا ہے اور سولہ ہزار خاندانوں کو ایک ماہ کا راشن بھی دیا گیا ہے۔
© MMX