
رواں سال ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں سو سے زیادہ شہری پشاور میں ہلاک ہوئے
پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے شدت پسندوں کی جانب سے خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں زیادہ تر نشانہ سکیورٹی فورسز کو بنایا جاتا تھا لیکن رواں سال عام شہریوں پر بھی براہ راست حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کی شدت میں غیر معمولی تیزی آتی جا رہی ہے۔
درج ذیل میں رواں سال براہ راست شہریوں پر ہونے والے بڑے واقعات کی تفصیل ہے۔
دو نومبر کو اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں مال روڈ کے قریب واقع شالیمار پلازہ کی کار پارکنگ میں ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم تیس افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہوگئے۔
اکتوبر رواں سال کا سب سے پرُ تشدد مہینہ رہا۔ اس ماہ اٹھارہ مختلف حملوں میں دو سو سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے۔اٹھائیس اکتوبر کو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے اندرون شہر میں واقع پیپل منڈی کے مینا بازار چوک میں ایک کار بم دھماکے میں ایک سو اٹھارہ افراد ہلاک اور دو سو سے زخمی گئے۔ پاکستان میں رواں سال کا یہ سب بڑا بم دھماکہ تھا۔
تئیس اکتوبر کو پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت سولہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد شادی کی ایک تقریب کے لیے پشاور جا رہے تھے۔
اسی روز صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے مہنگے علاقے حیات آباد میں واقع ایک ریستوانت کے باہر کار بم دھماکے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔

اسلامک یونیورسٹی کے کیمپس میں دو خودکش حملے ہوئے جس کے بعد ملک بھر میں تعلیمی ادارے ایک ہفتے کے لیے بند کر دیے گئے
بیس اکتوبر کو اسلام آباد میں واقع انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے کیمپس میں دو خودکش حملوں میں حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہو گئے۔ ان حملوں کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔
پندرہ اکتوبر کو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایک سرکاری رہائشی کالونی میں ہونے والے ریموٹ کنٹرول کار بم دھماکے میں ایک بچہ ہلاک اور خواتین اور بچوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔
نو اکتوبر کو پشاور کے خیبر بازار میں ایک خودکش کار بم حملہ ہوا جس میں اڑتالیس افراد ہلاک اور ایک سو سنتالیس افراد زخمی ہو ئے۔ اس دھماکے میں زیادہ اموات قریب سے گزرنے والی بس میں سوار لوگوں کی ہوئی۔
اکتوبر میں پہلا خودکش حملہ پانچ تاریخ کو دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کی عمارت میں ہوا۔ اس حملے میں دو خواتین سمیت پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ۔ اسلام آباد کی تاریخ میں یہ چودھواں خودکش حملہ تھا۔ ان چودہ حملوں میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

ستمبر میں تین مختلف واقعات میں چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے
چھبیس ستمبر کو پشاور کے صدر بازار کے علاقے میں ایک نجی بینک کی عمارت کے سامنے دھماکہ ہوا جس سے دس افراد ہلاک اور پچپن زخمی ہوگئے۔ اسی ماہ اٹھارہ ستمبر کو صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ کے کچہ پخہ چوک میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور چھتیس زخمی ہوگئے۔
تئیس اگست کو پشاور کے رہائشی علاقے مومن ٹاؤن میں ایک خودکش دھماکے میں حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خودکش حملہ آور اور دو خواتین شامل تھیں۔ صوبہ سرحد میں ہی سترہ اگست کو ضلع چارسدہ کے علاقے شبقدر میں ایک گاڑی میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت چھ افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے۔
چودہ جون کو صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے تجارتی علاقے گنج میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ بیس زخمی ہوگئے۔
بارہ جون کو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں واقع جامعہ نعیمیہ میں نمازِ جمعہ کے بعد خودکش حملہ ہوا جس میں جامعہ کے سربراہ مفتی سرفراز نعیمی سمیت پانچ افراد ہلاک اور کم از کم پانچ زخمی ہوگئے۔

پشاور کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے احاطے میں ہونے والے خودکش بم حملے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے
گیارہ جون کو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے احاطے میں ہونے والے خودکش بم حملے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔ خودکش حملے میں اقوام متحدہ کے دو غیر ملکی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
پانچ جون کو صوبہ سرحد میں دیربالا کے علاقے حیاگئی شرقی میں ایک مسجد کے اندر بم دھماکہ ہواجس کے نتیجے میں کم سے کم پینتیس لوگ ہلاک ہوگئے۔یکم جون کو صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں ایک بم دھماکے میں چار افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے۔
اٹھائیس مئی کو پشاور شہر کے گنجان آباد اور تنگ علاقہ کباڑی بازار میں موٹر سائیکلوں میں نصب یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوگئے۔ اسی ماہ بائیس تاریخ کو پشاور کے ہی مصروف ترین خیبر بازار کے عقب میں ایک کار بم دھماکے میں دس افراد ہلاک اور اسی زخمی ہوگئے۔
سولہ مئی کو صوبہ سرحد کے صدر مقام پشاور میں گاڑیوں کے ایک شو روم کے سامنے کار بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دس افراد ہلاک جبکہ 32 زخمی ہوئے۔

خیبر ایجنسی میں ایک مسجد میں خودکش حملے کے نتیجے میں پچاس افراد ہلاک ہوئے
چھبیس اپریل پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک گاڑی میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون سیمت تین بچے شامل تھے۔
پانچ اپریل کو صوبہ پنجاب کے شہر چکوال کی ایک امام بارگاہ میں خودکش حملے میں چوبیس افراد ہلاک اور اکتالیس زخمی ہوئے۔
ستائیس مارچ کو پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک مسجد میں خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم پچاس افراد ہلاک اور ایک سو پچہتر کے قریب زخمی ہوئے۔
گیارہ مارچ کو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما وزیر بشیر احمد بلور پر ہونے والے قاتلانہ حملے اور بعد میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔
پانچ مارچ کو ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے ایک مسجد پر دستی بم سے حملہ کیا جس میں ایک شخص ہلاک اور بیس کے قریب افراد زخمی ہوگئے۔

لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا جس میں آٹھ سری لنکن کھلاڑی زخمی ہو گئے
تین مارچ کو لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو سٹیڈیم لے جانے والی بس پر تقریباً ایک درجن حملہ آوروں کی فائرنگ سے سری لنکا کے آٹھ کھلاڑی زخمی اور پنجاب پولیس کے پانچ اور ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ۔اس کے علاوہ دو نامعلوم افراد بھی مارے گئے۔
اکیس فروری کو صوبہ سرحد کے ضلع لکی مروت میں ایک کار بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔ اس سے ایک روز پہلے بیس فروری کو صوبہ سرحد کے ہی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جنازے پر ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم پچیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہو گئے۔
پانچ فروری کو جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں امام بارگاہ میں ایک خودکش حملے میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ پنتالیس کے قریب زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔ دو روز پہلے تین فروری کو ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک جبکہ بیس زخمی ہو گئے۔
نو جنوری کو لاہور میں دو مختلف تھیئٹروں کے قریب دوگھنٹوں میں پانچ کم شدت کے دھماکے ہوئے ہیں جس میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔
© MMIX