
حکومت پاکستان نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں قائم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود اور ان کے اٹھارہ قریبی ساتھیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر بڑی انعامی رقم مقرر کی ہے۔
پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والے ’اور زمین پر فساد نہ پھیلاؤ۔القرآن‘ کے عنوان سے ایک سرکاری اشتہار کے مطابق حکیم اللہ محسود کے سر کی قیمت پانچ کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
ان کے قریبی ساتھی اور جنوبی وزیرستان میں تنظیم کے امیر ولی الرحمان، اور خودکش حملہ آوروں کے مبینہ سرغنہ قاری حسین محسود کے بارے میں معلومات کی فراہمی پر بھی پانچ، پانچ کروڑ روپے انعامی رقم مقرر کی گئی ہے۔
تحریک طالبان کے ترجمان اعظم طارق جن کا اصل نام محمد رئیس خان ہے پر دو کروڑ جبکہ باروند کے کمانڈر مولوی عظمت اللہ اور گرگرے تربیتی مرکز کے منتظم مفتی نور ولی محسود، مفتی نور سعید نائب امیر، مولوی شمیم محسود کمانڈر لدھا، امیر اللہ محسود عرف گڈ (لنگڑا) قاری عرف مظلوم یا کمانڈر مکین، نصراللہ محسود کمانڈر خیسورہ اور تیارزہ، جلیل محسود کمانڈر سپاس اور محمد اسماعیل کمانڈر ٹانک پر بھی انعامی رقم دو دو کروڑ مقرر ہوئی ہے۔
کمانڈر جندولہ عصمت اللہ بھٹانی عرف شاہین، کمانڈر کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان، کمانڈر عبداللہ شاہ محسود، مولوی عبدالوہاب کمانڈر سپنکئی رغزئی اور خان سید شبی خیل محسود عرف سجنا کمانڈر دوتانی پر ایک ایک کروڑ رقم لگائی گئی ہے۔
اشتہار میں ان افراد پر بےگناہ مسلمانوں کو موت کی وادی میں دھکیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں محسود اور قبائل کی بدنامی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ’ان کی ظالمانہ حرکات کی وجہ سے پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی رسوائی بھی ہو رہی ہے۔ ایسے لوگ عبرتناک سزا کے حقدار ہیں۔ ان افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے حکومت پاکستان کا ساتھ دیں۔‘
اس سے قبل حکومت نے تحریک کے سابق امیر بیت اللہ محسود کے سر کی قیمت بھی پانچ کروڑ مقرر کی تھی۔ اس کے علاوہ سوات میں بھی شدت پسندوں کے فہرست انعامی رقم کے ساتھ جاری کی جاچکی ہے۔
واضح رہے کہ حکیم اللہ محسود سمیت جن طالبان پر حکومتِ پاکستان نے انعام رکھا ہے ان میں سے کوئی بھی امریکہ کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
© MMIX