Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 2 november, 2009, 12:33 GMT 17:33 PST

راولپنڈی میں خودکش حملہ، تینتیس ہلاک

دھماکے کے بعد پولیس اور فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا

راولپنڈی چھاؤنی کے علاقے میں واقع شالیمار پلازہ کی کار پارکنگ میں ہونے والے خودکش حملے میں حملہ آور سمیت تینتیس افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

راولپنڈی پولیس کے مطابق یہ حملہ پیر کی صبح تقریباً دس بج کر چالیس منٹ پر ہوا اور حملہ آور ایک موٹرسائیکل پر سوار تھا۔

کلِک راولپنڈی میں خودکش دھماکہ: تصاویر

کلِک دھماکے کے عینی شاہدوں نے کیا دیکھا

راولپنڈی کے تینوں ہسپتالوں سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں سولہ، ملٹری ہسپتال میں چھ اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں دس افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں اس کے علاوہ ایک انسانی جسم کے اعضاء بھی ڈسٹرکٹ ہسپتال میں لائے گئے ہیں۔ اس سے قبل ریجنل پولیس افسر راولپنڈی اسلم ترین نے تیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

اسلم ترین کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے بعد اب عام مقامات پر بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جس کے وجہ سے شہر کی سکیورٹی کی صورت حال کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکے سے آس پاس کی کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دھماکے کے بعد پولیس اور فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ حملے کا نشانہ بننے والے پلازے میں بینک اور ٹریول ایجنٹ کے دفاتر بھی واقع ہیں اور پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد بینک کے باہر موجود تھے۔

وزارتِ دفاع کے ذرائع نے بی بی سی اردو کے آصف فاروقی کو بتایا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے بینک سے ہی وزارتِ دفاع کے بہت سے ملازمین اپنی تنخواہ وصول کرتے ہیں اور حملے کے وقت بھی وزارت دفاع کے اہلکار تنخواہ کی وصولی کے لیے بنک کے باہر جمع تھے۔

حملے کا نشانہ بننے والے بینک سے ہی وزارتِ دفاع کے بہت سے ملازمین اپنی تنخواہ وصول کرتے ہیں اور آج بھی حملے کے وقت وزارت دفاع کے اہلکار تنخواہ کی وصولی کے لیے بنک کے باہر جمع تھے۔

ذرائع، وزارتِ دفاع

وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق ہر ماہ کے آغاز پر بڑی تعداد میں وزارتِ دفاع کے اہلکار صبح سویرے بنک کے باہر لگی خود کار مشین کے ذریعے اپنی تنخواہ نکلواتے ہیں اور اب تک حاصل ہونے والے شواہد کے مطابق حملہ آور نے بنک کے اندر جانے کے بجائے باہر لگی اے۔ٹی۔ایم مشین سے پیسے نکلوانے والوں کو ہدف بنایا۔

خیال رہے کہ وزارت دفاع کے مرکزی دفتر اور متاثرہ بنک کے درمیان چند سو گز کا فاصلہ ہے جبکہ فوجی ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو بھی اس بنک سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں گزشتہ ماہ شدت پسندوں نے حملہ کر کے دس فوجیوں سمیت چودہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ وزارت دفاع پاکستان کی مسلح افواج اور سول حکومت کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے۔ بجٹ کی فراہمی سے لے کر اہم تعیناتیوں میں اس وزارت کا کلیدی کردار بتایا جاتا ہے۔

دھماکے کے ایک عینی شاہد رضوان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ حملہ آور نے بینک کے باہر قطار میں موجود افراد کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دھماکے سے انسانی جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے‘۔ رضوان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور چند بچے بھی شامل ہیں جو دھماکے کی جگہ کے قریب ایک گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے۔

جائے وقوعہ کے قریب متعدد مشنری سکول بھی واقع ہیں جو سکیورٹی خدشات کی بناء پر قریباً دو ہفتے کی بندش کے بعد آج ہی کھلے تھے۔ دھماکے کے بعد والدین کی بڑی تعداد ان سکولوں کے باہر جمع ہو گئی تاہم سکولوں کی انتظامیہ نے فوری طور پر بچوں کو سکول سے باہر بھیجنے سے انکار کر دیا۔

جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے پاکستان میں شہری اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور چند روز قبل پشاور میں پیپل منڈی کے علاقے میں ہونے والے ایک دھماکے میں ایک سو اٹھارہ افراد مارے گئے تھے جبکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایسے واقعات میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد تین سو کے قریب ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔