
محکمہ ماہی گیری کے اہلکار سمندر میں غیر قانونی طور پر ماہی گیری کرنےوالوں پر نظر رکھتے تھے
پاکستان کی حکومت نے ایران کی سمندری حدود میں غلطی سے داخل ہونے والے آٹھ پاکستانی اہلکارروں کی رہائی کے لیے کوششیں شروع کی دی ہیں۔
بلوچستان کے محکمہ ماہی گیری کے آٹھ اہلکار اتوار کوغلطی سے ایک کشتی کے ذریعے ایران کی سمندری حدود میں داخل ہوئے جہاں انھیں ایرانی سیکورٹی فورسز نے پاکستان اور ایران کے سرحدی پوائنٹ گواٹر بے کے مقام پر حراست میں لیا تھا۔
کوئٹہ میں سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں حکام نے محکمہ ماہی گیری بلوچستان کے آٹھ اہلکاروں کی رہائی کے لیے ایران سے رابطہ قائم کیا ہے۔
گوادر میں مقامی صحافی بہرام بلوچ کے مطابق محکمہ ماہی گیری کے ایک انسپکٹر عبدالسلام سمیت آٹھ اہلکار ایک کشتی میں ایرانی سمندری حدود میں غلطی سے داخل ہوئے تھے۔ محکمہ ماہی گیری کے یہ اہلکار سمندر میں غیر قانونی طور پر ماہی گیری کرنےو الوں پر نظر رکھتے ہیں۔
کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سرکاری آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے ان اہلکاروں کی رہائی کے لیے کوئٹہ میں ایرانی قونصل خانے سے بھی رابطہ قائم کیا ہے اور امکان ظاہر کیا ہے کہ آئندہ ایک دو روز میں ایرانی حکومت ان اہلکاروں کو رہا کردے گی ۔
تقریباً ایک ہفتہ قبل پاکستان سکیورٹی فورسز نے غیر قانونی طورپر پاکستان میں داخل ہونے کے الزام میں ایران کے پاسداران انقلاب کے گیارہ اہلکاروں کو ماشکیل کے قریب گرفتار کیا تھا تاہم بعد میں پاکستانی حکام نے انہیں یہ کہہ کر رہا کر دیا تھا کہ وہ راستہ بھول کر غلطی سے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے غیر قانونی طورپر پاکستان میں داخل ہونے کے الزام میں ایران کے پاسداران انقلاب کے گیارہ اہلکاروں کو ماشکیل کے قریب گرفتار کیا تھا تاہم بعد میں پاکستانی حکام نے انہیں یہ کہہ کر رہا کر دیا تھا کہ وہ راستہ بھول کر غلطی سے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز نے پہلی بار ایک دوسرے کی زمینی اور سمندری حدود میں غیر قانونی طو پر داخل ہونے پر سکیورٹی اہلکارروں اور سرکاری ملازمین کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں تعلقات اس وقت سخت کشیدہ ہوئے جب گزشتہ ماہ ایران کے صوبہ سیستان - بلوچستان میں ایک خودکش حملے کے نتیجے میں چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے کے بعد ایرانی حکومت نے جنداللہ نامی سنی شدت پسند تنظیم پر اس کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے پاکستان سے اس کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
ایران نے تفتان اور مندبلو کے مقام پر واقع انٹری پوائنٹ کو بھی تاحال بند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی سرحدی علاقوں کے رہائشیوں ، مزدوروں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا ہے ۔ سرحد کی بندش کے باعث علاقے میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے باعث علاقے سے نقل مکانی کی بھی اطلاعات ہیں۔