Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 2 november, 2009, 12:45 GMT 17:45 PST

راولپنڈی دھماکہ، عینی شاہدین کے بیانات

گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی تھی کہ اچانک پارکنگ میں ایک زوردار دھماکہ ہوا: رضوان

دو نومبر کو راولپنڈی میں ہونے والے بم دھماکے میں اب تک تینتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

یہ دھماکہ ایک ایسی جگہ پر ہوا ہے جہاں عام شہری بڑی تعداد میں موجود تھے۔

اس واقعہ کے ایک عینی شاہد رضوان محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شالیمار پلازہ میں واقع نیشنل بینک میں گاڑی کا چالان جمع کروانے کے لیے گئے تھے اور انہوں نےگاڑی پارکنگ میں کھڑی کی تھی کہ اچانک پارکنگ میں ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے دھویں کے بادل اُٹھنے لگے۔ شاہد کے بقول انسانی جسموں کے اعضاء دور دور تک پھیل گئے۔ رضوان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور چند بچے بھی شامل ہیں جو دھماکے کی جگہ کے قریب ایک گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے۔

رضوان کے مطابق دھماکے کے بعد سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے اُنہیں وہاں سے نکالا اور ہسپتال بھجوایا گیا۔

تنخواہ لے کر باہر نکل رہا تھا کہ ایک خوفناک دھماکہ ہوا: حکمت

اس خودکش حملے میں زخمی ہونے والے ایک اور عینی شاہد حکمت علی جو راولپنڈی پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تنخواہ لینے کے لیے شالیمار پلازہ میں واقع نیشنل بینک گئے تھے اور جونہی وہ تنخواہ لے کر باہر نکل رہے تھے کہ ایک خوفناک دھماکہ ہوا جس کے بعد انہیں کوئی ہوش نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب اُنہیں ہوش آیا تو وہ ضلعی ہیڈ کوراٹر ہسپتال میں موجود تھے۔

ہسپتال میں زیر علاج ایک اور زخمی شفیق خان کا کہنا تھا کہ وہ بُھنی ہوئی مکئی فروخت کرتے ہیں اور اس واقعہ سے پندرہ منٹ پہلے ہی وہ شالیمار پلازہ کی پارکنگ میں گئے تھے۔ انہوں نے کہا ’چونکہ مہینے کا پہلا ورکنگ ڈے تھا اور لوگ تنخواہ نکلوانے کے لیے آئے تھے۔ کچھ دیر بعد ہی شدید دھماکہ ہوا جس کے بعد دھماکے میں تباہ ہونے والی گاڑیوں کے ٹکڑے مجھے آ کر لگے جس سے میں زخمی ہوگیا۔‘

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔