
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پولیس کے لیے شہدا فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا
پاکستان کے وزیراعظم نے صوبہ سرحد کی حکومت کو بجلی کے خالص منافع کی مد میں ایک سو دس ارب روپے کے بقایا جات ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعظم نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ چاروں صوبوں میں پولیس کے لیے ’ شہداء ٹرسٹ‘ تشکیل دی جائے گی ۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے گورنر ہاؤس پشاور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ بجلی کے خالص منافع کی مد میں واپڈا کے ذمےایک سو دس ارب روپے کے بقایہ جات آئندہ پانچ سالوں میں صوبہ سرحد کی حکومت کو ادا کیے جائیں گ ۔
انہوں نے کہا کہ یہ رقم سالانہ بنیادوں پر پانچ قسطوں میں دی جائے گی اور اس حساب سے پچیس ارب روپے ہر سال کی پہلی سہ ماہی میں ادا کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں دس ارب روپے فوری طور پر صوبائی حکومت کو جاری کردیئے جائینگے۔ ان کے بقول دو ہزار پانچ سے دو ہزار نو اور دس کے بقایہ جات کے بارے میں پہلے سے تشکیل پانے والی کمیٹی سفارشات پیش کرے گی ۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فریقین نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ اس مسئلے پر عدالتوں میں دائر کی جانے والی درخواستیں واپس لی جائیں گی۔
یاد رہے کہ بجلی کے خالص منافقع پر صوبہ سرحد کی حکومت اور پانی و بجلی کے ترقیاتی ادارے واپڈا کے درمیان چودہ سال تک جاری رہنے والا تنازع وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل کی جانے والی ’ ثالثی کمیشن’ کے ذریعے متحدہ مجلس عمل کی دورِ حکومت میں حل ہوا تھا۔ تاہم بعد میں واپڈا نے رقم کی ادائیگی سے معذرت ظاہر کردی تھی اور صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔
وزیراغطم نے نیوز کانفرنس کے دوران یہ اعلان بھی کیا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں پولیس کے لیے ’شہداء ٹرسٹ’ قائم کیے جائیں گے۔ ان کے بقول اس قسم کا ٹرسٹ فوج میں بھی موجود ہے لہذا اسی طرز پر پولیس کے لیے جو ٹرسٹ قائم کی جارہی ہے اس کے ذریعے جان بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کے ورثاء کو مالی مدد فراہم کی جائے گی۔
وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی اور وہاں سے لوگوں کی انخلاء کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ محسود بحیثیت قبیلہ محبِ وطن ہیں مگر وہاں پر غیر ملکی آئے ہیں جن کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تاثر کو بھی ختم ہوناچاہیے کہ حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن اور وزیرستان کے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے دوہرا معیار اپنا رکھا ہے۔ ان کے مطابق بے گھر افراد کو پانچ ہزار روپے ماہانہ دیے جا رہے ہیں اور آپریشن کے خاتمے کے بعد جب ان کی واپسی ہوگی تو اس موقع پر بھی انہیں پچیس پچیس ہزار روپے نقد دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کی طرز پر تعمیر نو اور آبادکاری کا کام جنوبی وزیرستان میں بھی شروع کیا جائے گا اور اس سلسلے میں گورنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں صوبہ سرحد کے وزیراعلی، وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی وزیر اطلاعات اور سپیشل سپورٹ گروپ کے دیگر ارکان کو شامل کیا گیا ہے۔
نیوز کانفرنس سے قبل یوسف رضا گیلانی نے امن و امن کے حوالے سے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں شرکت کی جس میں وزیراعلی سرحد اور دیگر صوبائی اور وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے جو پلان تیار کیا ہے اس سے وہ مطمیئن ہیں تاہم انہوں نے پلان کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
© MMX