Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 30 october, 2009, 08:01 GMT 13:01 PST

پشاور میں ہڑتال، ہلاکتیں 118

حکومتی امدادی عملے نے جمعرات کی شام کو کام بند کردیاتھا جس کے بعد مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کاموں میں مصروف رہے

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں دو دن قبل ہونے والے کار بم دھماکے کے بعد تاجر تنظیموں کے اعلان کردہ سوگ کے نتیجے میں جمعہ کو شہر کے بیشتر کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر بہت کم ٹریفک دیکھنے میں آئی ہے۔

دوسری طرف دھماکے کی مقام پر تیسرے روز بھی امدادی کاروائیاں جاری رہیں اور جمعہ کی صبح بھی ملبے سے ایک بچے کی لاش ملی ہے۔

ایدھی فاونڈیشن کے مطابق واقعے میں ہلاک شدگان کی کُل تعداد ایک سو اٹھارہ ہوگئی ہے۔

پشاور کی تاجر تنظیموں کی جانب سے تین روز سوگ کا جو اعلان کیا گیا تھا اس کے بعد جمعرات کو شہر میں چند ہی کاروباری مراکز بند رہے مگر جمعہ کو شہر کے اہم تجارتی مراکز صدر، قصہ خوانی بازار، یونیوررسٹی روڈ، خیبر بازار اور دیگر چھوٹے بازار مکمل طور پر بند رہے۔ شہر کی سڑکوں پر بہت کم ٹریفک چلتی رہی جبکہ لوگوں کی آمدوروفت میں بھی کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ خیال رہے کہ شہر کے زیادہ تر تعلیمی ادارے پہلے سے ہی بند ہیں۔

تاجر اتحاد یونیورسٹی روڈ کے رہنما خالد ایوب نے بی بی سی اردو کے دلاور خان وزیر کو بتایا کہ پشاور میں تاجروں کو نہ تو کوئی سکیورٹی مہیا کی گئی ہے جس کے وجہ سے امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث تاجر سخت پریشان ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال کی وجہ سے تاجروں کو نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔

پشاور کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور کے بازاروں اور کاروباری علاقوں میں سکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کرے۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بدھ کو ہوئے کار بم حملے میں ہلاک ہونے والوں تاجروں کے خاندانوں کی مالی مدد کی جائے اور تاجروں کا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

پشاور کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور کے بازاروں اور کاروباری علاقوں میں سکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کرے۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بدھ کو ہوئے کار بم حملے میں ہلاک ہونے والوں تاجروں کے خاندانوں کی مالی مدد کی جائے اور تاجروں کا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

دوسری طرف قصہ خوانی مینا بازار میں تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے اور وہاں سے لاشیں نکالنے کا کام جمعہ کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتی امدادی عملے نے جمعرات کی شام کو کام بند کردیا تھا جس کے بعد مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کاموں میں مصروف رہے۔ تاہم جمعہ کو میڈیا پر حکومتی سطح پر امدادی کام کے رک جانے کی خبریں نشر ہونے کے بعد وہاں پر امدادی عملہ دوبارہ پہنچ گیا۔

ایدھی فاونڈیشن کے میڈیا انچارج مجاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح منہدم ہونے والی مسجد کی عمارت سے تقریباً بارہ سالہ بچے کی لاش ملی ہے جس کی بعد میں شناخت بھی ہوگئی۔ ان کے بقول یہ خدشہ ہے کہ مسجد کی عمارت میں تیرہ مزید لاشیں دبی ہوئی ہیں تاہم ملبہ ہٹانے جانے کے بعد ہی صورتحال واضح ہوجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرنے والوں کی تعداد اب ایک سو اٹھارہ تک پہنچ گئی ہے۔مجاہد خان کا کہنا ہے کہ جن اڑسٹھ گمشدہ لوگوں کے نام لکھوائے گئے تھے ان میں سے نو افراد کی لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوانی کے مینا بازار میں دو دن پہلے کار بم دھماکہ ہوا تھا جس سے گزشتہ چند سالوں کے دوران ہونے والے دھماکوں میں ہونے والے جانی نقصان کے حوالے سے سب سے بڑا دھماکہ کہا گیا ہے۔دھماکے کی وجہ سے تقریباً پندرہ عمارتیں جزوی یا پھر مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔