
پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو صرف جدید اسلحہ کی ضرورت نہیں، اسے تربیت، تحریک اور با صلاحیت قیادت کی ضرورت کہیں زیادہ ہے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات کی طرح جنوبی وزیرستان کا فوجی آپریشن بھی کبھی نا کبھی کامیابی پر ختم ہو گا۔ حکومت بڑھکیں مارے گی، ٹی وی ’اے وطن کے سجیلے جوانوں‘ کی تکرار کرے گا۔۔۔ اور پھر؟ کیا ملک میں دہشت گردی کا عفریت ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا؟ کیا خود کش حملوں کا سلسلہ بالآخر ختم ہو جائے گا؟ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو چن چن کر نشانہ بنانے والا کوئی نہ رہے گا؟ کیا وزیرستان کی جنگ میں اپنے لہو سے جیت کشید کرنے والے جوانوں کے صدقے عوام کی جان و مال محفوظ ہو جائے گی؟
ان سب سوالوں کا یک لفظی جواب ہے: ’نہیں‘۔
کلِک
’ وردیوں پر سے اعتماد ہی اٹھ جائے تو‘
جیسے کسی شہر کے ریڈ لائٹ ایریا کو بلڈوزر سے مسمار کرنے کے بعد یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ جسم فروشی کا دھندہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے، ایسے ہی وزیرستان بھی دہشت گردی کی نرسری ضرور ہو گا لیکن یہاں سے پھوٹنے والی زہریلی کونپلیں ملک بھر میں پھیل چکی ہیں۔
ان سے نمٹنا فوج کا نہیں، قانون نافذ کرنے والوں اداروں کا کام ہے، جن کی اب تک کی کارکردگی دیکھ کر سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملتا کیونکہ یہ بیچارے تو خود کو اور ’انتہائی اہم‘ حکومتی عہدیداروں کو بھی نہیں بچا سکتے، عوام کی جان و مال کی حفاظت تو ابھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہی نہیں!
ملکی سکیورٹی اگر نعروں اور دعوؤں پر چل سکتی تو پاکستان دنیا کا سب سے محفوظ ملک ہوتا کیونکہ جب سے دہشت گردی کا سلسلہ اس ملک میں شروع ہوا تب سے ہر حکومت صرف دعوے، معاہدے اور جھوٹ کا کاروبار ہی کرتی رہی ہے۔ آج بھی اس ملک میں ’سکیورٹی‘ کا مطلب صرف غیر ملکیوں، اور مقامی وی آئی پی افراد کی حفاظت مانا جاتا ہے اور اس کام کے لیے پاکستانی ٹیکس دہندہ کا پیسہ اور اسی پاکستانی کے نام پر ملنے والی بین الاقوامی بھیک کو بلا دریغ خرچ کیا جاتا ہے۔ عام آدمی کو سکیورٹی کے نام پر ملتے ہیں ناکے اور تلاشیاں۔
اگر جان و مال کا تحفظ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو پہلے انکار کا رویہ چھوڑ کر ماننے، سمجھنے، جاننے اور کرنے کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ یہ ماننا ہو گا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تربیت اور تحریک کا فقدان ہے، اور فیصلہ سازوں کے پاس کوئی منصوبہ ہے نہ کوئی تدبیر۔
اگر جان و مال کا تحفظ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو پہلے انکار کا رویہ چھوڑ کر ماننے، سمجھنے، جاننے اور کرنے کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ یہ ماننا ہو گا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تربیت اور تحریک کا فقدان ہے، اور فیصلہ سازوں کے پاس کوئی منصوبہ ہے نہ کوئی تدبیر۔
یہ سمجھنا ہو گا کہ کوئی ایک ادارہ یا چند ادارے مل کر بھی دہشت گردی کے اس جن کو بوتل میں واپس نہیں ڈال سکتے۔ یہ ایک لمبی جنگ ہے جس میں پورے ملک کی آبادی کو شامل کرنا پڑے گا۔ یہ جاننا ہو گا کہ دہشت گردی کی جڑیں کہاں ہیں، ان کو پانی اور کھاد دینے والا کون ہے، اور دنیا کے دوسرے ممالک نے اس لڑائی کو کیسے لڑا ہے۔ اور اس کے بعد مشاورت اور منصوبہ بندی سے اس عمل کو آگے بڑھانا ہو گا۔
موجودہ وزیر داخلہ سمیت کئی ذمہ دار حکام عوامی اجتماعات میں کہتے آئے ہیں کہ خود کش حملہ آور کو روکنا تو ممکن ہی نہیں۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ چند برس پہلے تک تقریباً روزانہ خود کش بمباروں کا نشانہ بننے والے اسرائیل میں آخری خود کش حملہ کب ہوا تھا؟ ہمارے پڑوس میں طالبان سے کہیں زیادہ منظم اور متحرک تامل ٹائیگرز کو ان کے خود کش حملہ آوروں اور پوری لیڈرشپ سمیت کیسے ختم کر دیا گیا؟ شمالی آئرلینڈ کے تنازعہ میں انگلینڈ پر آئے روز ہونے والے حملے کیسے بند ہو گئے جبکہ تنازعہ اب بھی موجود ہے؟

ملک کی کثیر آبادی جسے نہ کاروبار کرنے کی آزادی ہے نہ سفر کرنے کی اور نہ ہی بچوں کو تعلیم دلوانے کی، ان سب سے نا امید ہو کر بس جیے جاتی ہے۔۔۔
سب کے حالات یقیناً ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور کسی ایک کی حکمت عملی ہو بہو کہیں اور استعمال نہیں کی جا سکتی لیکن ایک قدر دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں کامیاب ہونے والے ممالک میں مشترک ہے اور وہ ہے دہشت گردی کی تعریف پر اتفاق اور اس کے خلاف قومی اتفاق رائے۔
یہاں فوج ایک طرف جاتی ہے، سیاستدان اور مذہبی رہنما اپنا راگ الاپتے ہیں، حکومت دعوے کرتی رہتی ہے کہ حالات اس کے قابو میں ہیں اور اس ملک کی کثیر آبادی جسے نہ کاروبار کرنے کی آزادی ہے نہ سفر کرنے کی اور نہ ہی بچوں کو تعلیم دلوانے کی، ان سب سے نا امید ہو کر بس جیے جاتی ہے۔۔۔ جب تک کسی دہشت گرد کی پہنچ میں نہ آ جائے۔
ایسی مایوس آبادی کسی جنگ میں ڈھال نہیں بن سکتی۔ عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے حکومت کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے ظاہر ہو کہ سکیورٹی سب کے لیے ہے، اور اس سے جڑی تکالیف بھی سب کے لیے ہیں۔ جب تک عام اور خاص کا فرق رہے گا، عوام اس سارے عمل سے لاتعلق ہی رہیں گے۔ اور ان کی عملی اور شعوری شمولیت کے بغیر یہ جنگ جیتنا محال ہی نہیں ناممکن ہے۔

جس دن دہشت گردوں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ ناکے پر گاڑیوں کے ہجوم حملہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ ہلاکتیں کرنے کی بہترین جگہیں ہیں اس دن کے بعد سے اس ملک کا سکیورٹی پلان کیا ہو گا؟
فیصلہ سازی اور فیصلوں کے نفاذ اور پھر نفوذ میں سیاست آ کودتی ہے۔ اور پاکستان میں سیاست کے تقاضے بھی کچھ الگ سے ہیں۔ جیسے حالیہ وقت میں سیاسی مفاہمت کے نام پر ایسی جماعتیں اور شخصیات حکومت میں شامل ہیں جن کی ہمدردیاں ان عناصر کے لیے ہیں جن کے خلاف ریاست جنگ لڑ رہی ہے۔
اسرائیلی سیاست کہیں زیادہ پر پیچ ہے کہ اس کی تاریخ میں ایک ہی اکثریتی حکومت بنی اور وہ بھی ایک سال ہی چل پائی۔ اس کے علاوہ ہر حکومت چھوٹی بڑی جماعتوں کے اتحاد سے بنی جس میں دائیں اور بائیں بازو دونوں کی نمائندگی رہتی ہے۔ لیکن سیاسی اور مذہبی اختلافات کے باوجود ملکی سلامتی کی بات آئے تو سب جماعتیں ہم زبان ہوتی ہیں۔
مخلوط حکومت ہونے کے باوجود اسرائیل میں وفاقی وزارتوں کی تعداد صرف سولہ ہے جن میں ایک ’وزارت اندرونی سکیورٹی‘ بھی ہے جو دفاع اور داخلہ کے علاوہ ہے۔ پھر وزیر اعظم کی سربراہی میں ایک سکیورٹی کیبنٹ بھی قائم ہے جس کے اجلاس جنگ اور امن دونوں حالتوں میں ہوتے رہتے ہیں اور اس میں فوجی سربراہان اور خارجہ، خزانہ اور دوسرے اہم امور کے وزیر شامل ہوتے ہیں تاکہ سکیورٹی سے متعلق تمام پہلوؤں پر بحث کے بعد ہی کوئی پالیسی وضع یا تبدیل کی جا سکے۔

پاکستان میں آج بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی فرسودہ سکیورٹی نظام کو پیٹ رہے ہیں جس کی بنیاد عمل نہیں رد عمل ہے
ایسی ہوتی ہیں حکومتیں جن کی پہلی ترجیح عوام کے جان و مال کا تحفظ ہوتی ہے۔ ان کے فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں اور اتفاق رائے کی طاقت سے نافذ کیے جاتے ہیں۔ صحیح اور بر وقت معلومات حاصل کرنا اور ان سے فائدہ اٹھا کر دشمن کی چالوں کو پہلے سے سمجھ لینا ایسے نظام میں ہی ممکن ہے۔
اس کے برخلاف پاکستان میں آج بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی فرسودہ سکیورٹی نظام کو پیٹ رہے ہیں جس کی بنیاد عمل نہیں رد عمل ہے۔ جس کے مطابق اگر حملہ گاڑی سے کیا جائے تو سڑکوں پر ناکے لگا دو، موٹر سائیکل استعمال ہو تو ڈبل سواری پر پابندی، خود کش حملوں سے بچنا ہو تو عمارتوں کے باہر کنکریٹ کی فصیلیں کھڑی کر دی جائیں، اور بڑے افسر کی سکیورٹی کا مطلب یہ کہ اس کے دروازے پر کئی جونیئر اہلکار تعینات کر دیے جائیں جنہیں کسی خود کش حملے کی صورت میں مرنا ہی ہے۔
جس دن دہشت گردوں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ ناکے پر گاڑیوں کے ہجوم حملہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ ہلاکتیں کرنے کی بہترین جگہیں ہیں اس دن کے بعد سے اس ملک کا سکیورٹی پلان کیا ہو گا؟
پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو صرف جدید اسلحہ کی ضرورت نہیں، اسے تربیت، تحریک اور با صلاحیت قیادت کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔ اور سب سے بڑھ کر پوری قوم کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ سکیورٹی چند گھنٹوں یا دنوں کا عمل نہیں۔ اسے کامیاب بنانے کے لیے اجتماعی زندگی کا ڈھنگ بدلنا ہو گا، ہر سطح پر بدلنا ہو گا، اور اسے مستقل بنیادوں پر اپنانا ہو گا۔