
اسلام آباد ہالیڈے ان میں ہونے والی الوداعی تقریب میں میری والدہ نے بھی شرکت کی
بی بی سی اردو سروس میں آنے سے پہلے ماہ پارہ صفدر پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان پر نیوز پریزینٹر کی حیثیت سے وابستہ تھیں۔ زندگی کے اس ابتدائی سفر سے وابستہ بہت سی یادیں ان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں، بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر گزشتہ گیارہ ہفتوں سے انہیں یاداشتوں پر مبنی سلسلہ شائع کیا جا رہا ہے۔ پیش ہے آخری قسط:
اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ میں نے جب سن نوے میں پاکستان ٹی وی چھوڑا یہ اپنے عالم شباب پر تھا۔ ٹی وی سکرین پر نظر آنے والے خاص طور پر نیوز کاسٹرز نہ صرف حکمرانوں بلکہ عوام اور اخبارات کی نظروں میں رہتے تھے۔ اسی لیے میرے بی بی سی جانے کی خبریں اکثر اخبارات میں شائع ہوچکی تھیں۔
تقرری سے لیکر 27 جنوری کو لندن روانگی تک ایک سوال جو مجھ سے تواتر سے پوچھا گیا وہ یہ تھا کہ میں ٹی وی اور ملک چھوڑ کر کیوں جارہی ہوں۔ بقول لوگوں کے شہرت و عزت پر لات مار کر میں کفران نعمت کی مرتکب ہورہی تھی۔
احباب کی محبتیں سر آنکھوں پر۔ یہاں پر متعدد تقریبات میں سے دو الوداعی تقریبات کا ذکر میرے اوپر قرض ہے۔
پہلی تقریب اسلام آباد ہالی ڈے اِن میں ظفر بختاری کے زیر اہتمام اور دوسری فدا حسین ملک اور اہلیان چکوال کی جانب سے چکوال میں منعقد کی گئی۔ ان دونوں میں شرکاء کی بھر پور شرکت میرے لیے باعث صد افتخار تو تھی ہی، باعث حیرانگی بھی تھی۔ منکسر مزاجی اپنی جگہ اس دوران میں پوری دیانت داری سے سوچ رہی تھی کہ زندگی میں شائد ایسے مواقع بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہوں گے۔

سابق وزیر شہناز وزیر علی
اسلام آباد میں تو ایک دوست غضنفر مہدی نے شدت جذبات میں یہ بھی کہہ دیا کہ اگر ماہ پارہ اور صفدر کے پاس اسلام آباد میں ذاتی گھر ہوتا تو شائد یہ لوگ بیرون ملک نہ جاتے۔ تقریب کی مہمان خصوصی خواتین کی بہبود کی وزیر شہناز وزیر علی نے مذاقاً کہا کہ مقررین کے تاثرات سن کر تو دل چاہتا ہے کہ کیوں نہ ماہ پارہ صفدر کا جانا رکوا دیا جائے۔ مجھے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ میری والدہ ان دونوں تقاریب میں شریک تھیں۔
اسلام آباد انٹر نیشنل سے روانگی اور لندن ہیتھرو آمد تک چند گھنٹوں کے سفر میں میری زندگی نے ایک سو اسی ڈگری کا فاصلہ طے کیا تھا۔
اسلام آباد میں سٹیشن کے ایک اہلکار مسافروں کی طویل قطار کو پیچھے چھوڑ کر مجھے سب سے پہلے جہاز تک چھوڑنے آئے، مگر لندن ائر پورٹ سے باہر آنے والے آخری مسافروں میں سے تھی۔ میں دونوں چھوٹے بچوں کی انگلیاں تھامے چلتی ہوئی مسافروں کی قطاروں تک پہنچی تو کوئی پانچ یا چھ سو مسافر میرے آگے تھے۔امیگریشن ڈسک تا پہنچتے پہنچتے کچھ گھنٹے صرف ہوئے۔ اس کے بعد میری درخواست کے باوجود بچوں کی دیکھ بھال کے لیے عارضی ویزے پر میرے ساتھ آنے والی خاتون کے میڈیکل چیک اپ کے باعث چند گھنٹے اور لگے۔ اور یوں لگ بھگ بیس گھنٹے میں یہ سفر مکمل ہوا۔ ملک کی اصول پسندی اپنی جگہ قابل ستائش مگر اسلام آباد بہت یاد آیا۔ دیارِ غیر کے موسموں کے اپنے ہی رنگ تھے۔
لندن میں موسم کیسے دبے پاؤں گزرتے رہے۔ واپسی کے گلاب کیوں مرجھا تے رہے۔ وقت کی ریت کیسے پاؤں تلے سے کھسکتی چلی گئی۔ساحلوں پہ کھڑی کشتیاں ہم نے خود ہی کیوں جلادیں۔ یہ کہانی پھر سہی۔ سر دست تو بس ایک اعتراف حقیقت کہ ہم جسے دیارغیرسمجھتے رہے وہ ہی اپنا گھر ٹھہرا مگر ایک ’نسلی اقلیت‘ کے طور پر۔
پاکستان کی سرزمین چھوڑنے کے ساتھ ہی ٹی وی سے میرا رشتہ بظاہر تو ختم ہوگیا مگر اس کی پرچھائیاں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں۔
بی بی سی جوائن کرنے کے فوراً بعد جو تین روزہ تعارفی کورس ہمیں کروایا گیا اس دوران بھی زیادہ تر میرے ٹی وی تجربات پر ہی بات ہوتی ہوئی۔ ایک روز کافی پینے کے وقفے میں شعبہ حالات حاضرہ کی انچارج میری رین ( چند برس قبل ریٹائر ہوچکیں ہیں) بہت دلچسپی سے جنرل ضیا کی ہلاکت کا ذکر کرنے لگیں اور مجھ سے ٹی وی کی انتظامیہ اور عوام کے رد عمل کے بارے میں پوچھا۔ دوران گفتگو ضیا کی ہلاکت کی خبر مجھے نہ پڑھنے دیے جانے پر بولیں کہ عورتوں کو جذباتی اور پروفیشنلی کم تر سمجھنے کا عمل کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔
اور پھر اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بولیں ”میں فٹ بال کی دیوانی تھی۔ مجھے اس بارے میں سٹوری لکھنے کا بے انتہا شوق تھا۔ لیکن فٹ بال اور سنجیدہ موضوعات پر میری لکھی ہوئی سٹوری دیکھ کر ایڈیٹر حضرات یہ کہہ کر پھینک دیا کرتے تھے کہ عورتوں کو چاہیے وہ نسوانی امراض یا بچوں کے پیدائش جیسے موضوعات پر لکھا کریں”۔
ابتدائی چند ماہ کے دوران لندن کی سرد موسموں اور دھند رستوں پر چلتے ہوئے ملک میں گزرے شام و سحر جس شدت سے یاد آئے وہ اس مصرعے میں ڈھل گئے۔
محبتوں کی چاندنی کھلی ہے اپنے دیس میں
پرائے در نظر نظر نگر نگر دھواں ملے

ماہ پارہ صفدر ایک تقریب میں
کئی مرتبہ اپنا تعارف کروانا یاد نہیں رہا کہ برسوں تک اپنے تعارف میں یہ سننے کی عادی ہوچکی تھی۔ یہ چہرہ اور آواز اپنی شناخت آپ ہے۔ چہرہ اور آواز تو وہ ہی تھی مگر شناخت کھو چکی تھی۔ بھیڑ میں احساس تنہائی اور بھی بڑھ جاتا تھا۔
اکثر دوستوں سے میری یہ بحث رہتی تھی کہ لوگ کیسے یہاں رہ جاتے ہیں۔ میں تو چار برس مکمل کرکے ضرور واپس جاؤنگی۔ مگر جو لوگ میرے سے پہلے اس جزیرے کے پانیوں میں اتر چکے تھے ایسے ہنس دیتے جیسے کہہ رہے ہوں۔
سیل حیات میں ہیں ہم انسان خار و خس
موجوں سے چند لمحے لڑے اور بہہ گئے۔
لندن میں موسم کیسے دبے پاؤں گزرتے رہے۔ واپسی کے گلاب کیوں مرجھا تے رہے۔ وقت کی ریت کیسے پاؤں تلے سے کھسکتی چلی گئی۔ساحلوں پہ کھڑی کشتیاں ہم نے خود ہی کیوں جلادیں۔ یہ کہانی پھر سہی۔ سر دست تو بس ایک اعتراف حقیقت کہ ہم جسے دیارغیرسمجھتے رہے وہ ہی اپنا گھر ٹھہرا مگر ایک ’نسلی اقلیت‘ کے طور پر۔
اور یوں انیس برس بیت گئے۔

سن نوے میں لندن روانہ ہونے سے پہلے بچوں زہرہ اور محمد کے ساتھ۔
چند ماہ قبل ایک دن بی بی سی بش ہاؤس کی کینٹین میں کھانے کے بعد عامر احمد خان ( اردو سروس کے ایڈیٹر) نے اچانک مجھے سے ٹی وی سے وابستہ یادیں مرتب کرنے کو کہا تو لکھنے کی خفتہ خواہش کے باوجود یہ سوچ کر میں خاصی متذبذب تھی کہ زندگی کا یہ موڑ تو برسوں پچھے رہ گیا تھا۔
مگر ہمت بندھانے پر وقت کی فصیل کھولنے کی دیر تھی کہ بیتے موسم سامنے آ کھڑے ہوئے اور پھر تو یقین کیجئے یادوں کا اتنا خزانہ ہاتھ لگا کہ اسے کوزے میں بند کرنا مشکل ہوگیا۔
آپ لوگوں نے خصوصاً نوجوان نسل جس نے مجھے بلکل اپنے بچپن میں دیکھا ہوگا میری کاوش کو جس قدر پذیرائی بخشی وہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اظہار ممنونیت میں یہ آخری چند سطریں لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں نمی ہے۔ آپ کی محبتوں کا قرض چکانا تو ممکن نہیں البتہ میری یادوں کے سرمائے میں بیش بہا اضافہ ہوا۔ جنھوں نے تنقیدکی ان کی بھی شکر گزار ہوں کہ تنقید سے اکثر زندگی کے وہ پہلو دیکھنے میں مدد ملتی ہے جو شائد میرے لیے قابل ذکر نہ ہوں مگر ان سے آگاہی ضروری ہے۔
آپ سے اجازت چاہوں گی مگر اس امید کے ساتھ کہ جانے کس موڑ پر آپ سے پھر ملاقات ہو جائے۔
* ان خانوں کو پُر کرنا ضروری ہے
© MMX