
سبھی اتنے جھلس گئے تھے کہ پہچان ہو ہی نہیں پا رہی:عبدالرحیم
ادھر کچھ ملبہ ہٹتا ہے ادھر انتظار میں بیٹھے درجنوں لوگوں کی آنکھیں عمارت کی تہہ میں جھانکنے لگتی ہیں۔ ادھر ہسپتال میں کوئی ایمبولنس داخل ہوتی ہے ادھر اس جانب چند افراد کے قدم بے اختیار اٹھنے لگتے ہیں۔
عبدالرحیم بھی ایسے ہیں چند افراد میں سے ہیں جو پشاور میں بدھ کو ہونے والے دھماکے کے بعد سے اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔
وہ اپنے چند رشتہ داروں کے ہمراہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے احاطے میں کھڑے کسی کو تصویریں دکھا رہے تھے۔’یہ دونوں تصویریں ہم نے جیو نیوز سے لی ہیں اوراس تصویر میں نیلے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس جو خاتون نظر آرہی ہیں ہمیں یہ شک ہے کہ یہ شاید ہماری بہن کلثوم ہی ہو‘۔
ڈاکٹر صاحب جن افراد کی شناخت نہ ہو سکے ان سب کو ایک ہی جگہ دفناؤ تاکہ ہم قبرستان جا کر سبھی کے لیے ایک ساتھ دعا کر سکیں تاکہ ان میں موجود ہمارے پیارے تک بھی دعا کی برکت پہنچ سکے۔
عبدالرحیم کی گمشدہ بہن کلثوم بدھ کو اکیلے ا پنی چھوٹی بہن کی آج جمعرات کو ہونے والی شادی کے لیے شاپنگ کرنے مینا بازار گئی تھیں کہ دھماکہ ہوا اور پھر نہ وہ آ سکیں اور نہ ہی چھوٹی بہن کے ہاتھوں پر مہندی سج سکی۔ عبدالرحیم نے ایک آبدیدہ ہوکر کہا کہ ’ کل سے ہسپتالوں، تھانوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں مارے مارے پھر رہے ہیں کہ ان کا کوئی تو پتہ چلے لیکن۔۔۔۔‘

ہسپتال میں زخمیوں کی فہرستیں لگائی گئی ہیں
انہوں نے ہسپتال میں پڑی ایک ایک لاش دیکھی ہے مگر’ وہ تو سبھی اتنے جھلس گئے تھے کہ پہچان ہو ہی نہیں پا رہی تھی‘۔ ابھی عبدالرحیم مجھے اپنا دکھڑا سنا ہی رہے تھے کہ ان کے دوسرے دکھی رشتہ دار نے مجھ سے ان کی بات کو وقت کا ضیاع سمجھ کر انہیں آواز دی ’چلیں چلتے ہیں، کہیں اور جا کر ڈھونڈتے ہیں‘۔
میں مردہ خانے کی جانب بڑھا تو ایک شناسا نے ایک جانب جمع افراد کے بارے میں بتایا کہ ان افراد کا بھی کوئی رشتہ دار لاپتہ ہے۔ ابھی ہم ان کی جانب بڑھ ہی رہے تھے کہ ایک باریش شخص تندہی سے ہماری جانب بڑھا شاید یہ سمجھ کر کہ میں ان کے بھتیجے کی کوئی خبر لایا ہوں لیکن انہیں کیا پتہ تھا کہ میں تو خبر دینے نہیں بلکہ لینے آیا ہوں۔
ان کے ساتھ ایک نوجوان تھا جن کا نام شیر محمد تھا۔ شیر محمد نے کہا کہ’میرا چچازاد بھائی کل سے غائب ہے۔ہم سبھی اپنے کاموں پر جانے کے لیے مینا بازار سےگزر کر جاتے ہیں۔ کل وہ یہاں تھا کہ دھماکہ ہوا تب سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا‘۔

کل سے پورے گھر میں ماتم ہے:شیر محمد
شیر محمد کے خاندان والوں نے لاش تلاش کرنے کے لیے تین گروپ بنائے ہیں۔ ایک یہاں مردہ خانے کے سامنے، ایک او پی ڈی کے ساتھ اور تیسرا مینا بازار میں ملبے کی جگہ انتظار کررہے ہیں۔لیکن انتظار کی گھڑیاں ہیں کہ طویل ہوتی جا رہی ہیں۔
شیر محمد نے اپنے چچا زاد بھائی کے بارے میں بتایا کہ ’وہ ایک ہوٹل میں مزدور تھا، ابھی کچھ عرصے پہلے ہی ان کی شادی ہوگئی تھی۔ کل سے پورے گھر میں ماتم ہے۔ سب کہہ رہے ہیں ہمیں ان کی موت قبول ہے لیکن لاش تو ملے‘۔
مردہ خانے میں ایک ڈاکٹر نے دو خواتین کی دکھ بھری کہانی سنائی جو اپنے پیاروں کی لاش ڈھونڈنے میں جب ناکام رہیں تو انہوں نے یہ کہہ کر آخری التجا کی کہ ’ڈاکٹر صاحب جن افراد کی شناخت نہ ہو سکے ان سب کو ایک ہی جگہ دفناؤ تاکہ ہم قبرستان جا کر سبھی کے لیے ایک ساتھ دعا کر سکیں تاکہ ان میں موجود ہمارے پیارے تک بھی دعا کی برکت پہنچ سکے‘۔
© MMX