
اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد جگہ جگہ سکیورٹی چیک پوسٹ بنائی گئی ہیں
اسلام آباد میں میرے گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ ایک بندوق بردار کالی شلوار قمیض میں ملبوس جمائیاں لیتا نظر آیا تو میں نے پوچھ لیا بھائی کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟ کہنے لگا ایف سی کا فوجی ہوں، آپ کے برابر والے گھر میں دعوت ہے، مجھے اس کی سکیورٹی پر لگایا گیا ہے اور رات گیارہ بجے تک مجھے یہیں پہرہ دینا ہے۔ میں نے کہا یہ تو اچھی بات ہے کہ آپ یہاں پہرہ دے رہے ہیں لیکن یہ دعوت تو رات دیر تک چلنے والی ہے، گیارہ بجے کے بعد حفاظت کا کیا انتظام ہوگا؟ کندھے اچکا کر کہنے لگا ’میری ڈیوٹی تو گیارہ بجے ختم ہو جاتی ہے۔‘
بینک جانے کی ضرورت ہر دوسرے چوتھے روز رہتی ہے۔ اس بار جانا ہوا تو سکیورٹی پہلے سے زیادہ دکھائی دی۔ عمارت کے اندر ایک تلاشی لینے والا گارڈ اور سکینر تو پہلے سے موجود ہے لیکن اب مرکزی دروازے کے باہر بھی ایک گارڈ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اس نے ہاتھ میں پکڑے سکینر کو میرے بستے پر پھیرا تو خطرے کی گھنٹی بجی۔ گارڈ نے بالکل عام سے لہجے میں پوچھا اس میں کیا ہے؟ میں نےجواب دیا چابیاں۔ میرے جواب کا انتظار کیے بغیر وہ میرے بعد آنے والے آدمی کی جانب متوجہ ہو گیا۔ بینک میں داخل ہونے کے بعد میں نے بستہ گارڈ کی میز پر رکھا اور خود سکینر کے اندر سے گذرا۔ خطرے کا الارم پھر بجا، لیکن اس بار مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا گیا اور بستہ مجھے تھما کر ’ کلیئر‘ کر دیا گیا۔
اسلام آباد میں ہی ایک فوجی ادارے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہیں کام کرنے والے ایک سینئر افسر میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھے تھے لیکن ڈرائیونگ سیٹ پر میں تھا۔ گیٹ پر متعین فوجی نے مجھے شناخت کروانے کو کہا۔ میں نے اپنے دوست کا نام اور رینک بتا دیا۔ اس نے ’مجھے‘ سیلوٹ کیا اور اندر جانے کی اجازت دے دی۔ میں نے کہا سروس شناختی کارڈ نہیں دیکھو گے؟ وہ تھوڑا سا گڑبڑایا پھر ایک دوستانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا ’سر میں آپ کو پہچانتا ہوں‘۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ہر اہم سڑک پر ایک سے زیادہ پولیس ناکے لگے ہیں۔ گاڑیوں کو روک کر پولیس اہلکار اندر جھانکتے ہیں اور چہروں کو ٹٹول کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو مزید تلاشی کے لیے سائئڈ پر کرنا ہے اور کسے جانے دینا ہے۔ ہر روز کئی کئی بار ان ناکوں سے گزرنےکے بعد پتا چلا کہ آپ کی شکل جیسی بھی ہو اور آپ کے سامان میں اسلحہ بارود ہو یا گھر کا راشن، آپ کو روکے جانے کا امکان صرف اسی صورت ہے جب آپ چھوٹی گاڑی یا پبلک ٹرانسپورٹ میں ہوں اور آپ کے ساتھ کوئی عورت یا بچہ نہ ہو۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ہر اہم سڑک پر ایک سے زیادہ پولیس ناکے لگے ہیں۔ گاڑیوں کو روک کر پولیس اہلکار اندر جھانکتے ہیں اور چہروں کو ٹٹول کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو مزید تلاشی کے لیے سائیڈ پر کرنا ہے اور کسے جانے دینا ہے۔ ہر روز کئی کئی بار ان ناکوں سے گزرنےکے بعد پتا چلا کہ آپ کی شکل جیسی بھی ہو اور آپ کے سامان میں اسلحہ بارود ہو یا گھر کا راشن، آپ کو روکے جانے کا امکان صرف اسی صورت ہو سکتا ہے جب آپ چھوٹی گاڑی یا پبلک ٹرانسپورٹ میں ہوں اور آپ کے ساتھ کوئی عورت یا بچہ نہ ہو۔
ان روزمرہ واقعات سے کیا یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سکیورٹی اہلکار اُس ملک کے ہیں جو ایک خطرناک دشمن سے جنگ کی حالت میں ہے؟ اور اگر دارالحکومت میں سکیورٹی اہلکاروں کا رویہ اتنا غیر پیشہ وارانہ ہے تو باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟ اور ایسے سکیورٹی ادارے عوام کو کتنا اعتماد دے سکتے ہیں جن کے اپنے مراکز دہشت گرد حملوں سے محفوظ نہیں، بلکہ ایک ہی مرکز پر ایک ہی انداز میں ایک سے زائد حملے بھی ہو چکے ہیں؟
سکیورٹی اداروں کی نااہلی اور بھی واضح ہوتی ہے جب ان کی کارکردگی کا موازنہ اُن دہشت گردوں سے کیا جائے جن سے وہ نبرد آزما ہیں۔ دشمن کہتا ہے کہ وہ کسی خاص دن اسلام آباد کے کسی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنائے گا تو یہ اطلاع ہونے، تمام تر سکیورٹی انتظامات کرنے اور سکول کالج بند کروانے کے باوجود ایک یونیورسٹی دہشت گرد حملے کا نشانہ بنتی ہے اور نوجوان طلبہ و طالبات ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ جنہوں نے گزشتہ چند ماہ صرف اپنے گھر اور دفتر کو قلعہ بنانے میں صرف کیے ہیں، اتنی سی ذمہ داری بھی لینے پر بھی آمادہ نہیں ہوتے کہ اسلام آباد جیسے چھوٹے اور منظم شہر کی حفاظت میں ان کی فورس ناکام ثابت ہوئی ہے۔

لاہور میں ایک ہی دن شدت پسندوں نے تین سکیورٹی اداروں کو حملوں کا نشانہ بنایا
ذمہ داری کا یہی فقدان حکومت کی ہر سطح پر دکھائی دیتا اور عوام کو یقین دلاتا ہے کہ پاکستان اتنے برسوں تک دہشت گردی کا شکار ہونے کے بعد بھی دشمن سے نمٹنے کی نہ صرف صلاحیت نہیں رکھتا، بلکہ یہ صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ دشمن کے ہر حملے کے بعد حکومتی اصرار کہ ’یہ سکیورٹی کی ناکامی نہیں‘ اور ’ہمیں اس حملے کی پہلے سے اطلاع مل چکی تھی‘ صرف یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ جیسے کوشش محض اتنی ہے کہ اس ملک کے سکیورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی نااہلی منظر عام پر نہ آئے اور نہ ہی اسے دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے پڑیں۔
لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ اور اس پر سرکاری رد عمل پاکستانی سکیورٹی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی نااہلی اور غیر ذمہ داری کی ایک واضح مثال ہے۔ حملے کے بعد جس طرح گورنر پنجاب اور دوسرے سیاسی رہنماؤں نے بیانات داغے وہ تو ایک طرف، پنجاب حکومت اور پولیس حکام کی جانب سے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کو ہیرو بنا کر پیش کرنا اور اس کی آڑ میں نا اہل پولیس افسران کی پردہ پوشی کرنا، ایک مجرمانہ فعل بن گیا جب نجی ٹی وی چینلز نے سی سی ٹی وی کی فوٹیج دکھائی جس میں ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک افسر موقع سے فرار ہو گیا، ایک اور افسر اپنی ٹیم کے ساتھ دفتر سے نکلا لیکن موقع پر نہ پہنچ سکا۔ اور ٹریفک پولیس اور ایلیٹ کے جوان کمک کے انتظار میں ایک ایک کرکے ہلاک ہوتے رہے۔
شہر کے ایک مصروف علاقے میں دن دیہاڑے آدھ گھنٹے سے زیادہ فائرنگ کرنے کے بعد دہشت گرد کسی سرنگ کے راستے فرار نہیں ہوئے بلکہ سگریٹ سلگاتے ہوئے، بندوقیں لہراتے ہوئے، موٹر سائیکل اور رکشے پر بیٹھ کر اطمینان سے رخصت ہوئے۔
شہر کے ایک مصروف علاقے میں دن دیہاڑے آدھ گھنٹے سے زیادہ فائرنگ کرنے کے بعد دہشت گرد کسی سرنگ کے راستے فرار نہیں ہوئے بلکہ سگریٹ سلگاتے ہوئے، بندوقیں لہراتے ہوئے، موٹر سائیکل اور رکشے پر بیٹھ کر اطمینان سے رخصت ہوئے۔
اس واقعے کی ایک رپورٹ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے مرتب کی اور دوسری وزیر اعلیٰ کے مشیر نے۔ دونوں میں تین ایس پی اور درجنوں دوسرے پولیس افسران کو غفلت کا مرتکب پایا گیا اور بڑے بڑے دعوے کیے گئے کہ انہیں جلد سخت سزائیں سنائی جائیں گی۔ سری لنکن ٹیم پر حملے کو آٹھ مہینے ہونے کو ہیں اور انکوائری رپورٹ کو آئے بھی سات مہینے ہونے والے ہیں لیکن کسی پولیس افسر کو سزا ملنی تو درکنار، وارننگ تک نہیں دی گئی۔

ہر واقعہ سکیورٹی اہلکاروں کی لاپرواہی، پولیس افسران کی بزدلی یا نا اہلی، پولیس اور فوج کے جونیئر اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنانے کی روایت کا تسلسل ہے۔
جی ایچ کیو راولپنڈی کے ایک حصے پر قبضہ اور یرغمال بنائے جانے کا واقعہ، اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر میں دھماکہ اور ایک پولیس ناکے کے قریب فوج کی گاڑی پر شدت پسندوں کی فائرنگ اور اس کے بعد فرار ہو جانے میں کامیابی، لاہور میں ایک ہی پولیس مرکز پر دوسرا دہشت گرد حملہ ۔۔۔ ان میں سے ہر واقعہ سکیورٹی گارڈز کی لاپرواہی، پولیس افسران کی نا اہلی اور پولیس اور فوج کے جونیئر اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنانے کی روایت کا تسلسل ہے۔
اس لیے جب پشاور کے سکولوں میں ’دہشت گردی سے بچنے کی دعا‘ والے پمفلٹ تقسیم کیے جاتے ہیں تو کسی کو حیرانی نہیں ہوتی۔ جب بندوقوں اور وردیوں والوں سے اعتماد اٹھ جائے تو پھر دعا پر ہی تکیہ کرنا پڑتا ہے۔
(داخلی سکیورٹی کو مضبوط کیسے بنایا جا سکتا ہے آپ پڑھ سکیں گے اس مضمون کی اگلی کڑی میں۔)