Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 24 october, 2009, 11:13 GMT 16:13 PST

مسئلۂ وزیرستان کا حل کیا ہے؟

رمضان

پپہلے تو وہ آئیں جائزہ لیں کہ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں ہے۔ اس کے بعد حکمت عملی وضع کر کے کارروائی کریں۔

اگر آپ ملکی یا بین الاقوامی ٹیلی ویژن چینل کو آن کریں، ریڈیو سنیں یا پھر اخبارات کو الٹ پلٹ کردیکھیں تو صدر اوباما سے لے کر آصف علی زرداری، ایک جونئر صحافی سے لے کر منجھے ہوئے تجزیہ نگار، ریٹائر فوجی سے لے کر ریٹائرڈ سول سرونٹ تک، غرض آپ زندگی کے ہر شعبہ سے وابستہ شخص کو کہیں دور بیٹھے دہشت گردی اور اس کے مبینہ ہیڈ کوراٹر جنوبی وزیرستان پر طبع آزامائی کرتے ہوئے پائیں گے۔

لیکن خود جنوبی وزیرستان کے ایک عام محسود کے پاس دہشت گردی کی وجوہات اور حل کے بارے میں کیا تجاویز ہیں شائد میڈیا سے لے کر سیاسی اور فوجی پالیسی سازوں، محققین اور تجزیہ کاروں نے ان تک رسائی میں یا تو غفلت سے کام لیا ہے یا پھر اگرکبھی کسی نے کوشش ہی نہیں کی اور اگر کی ہے تو ان کے راستے میں ایک ایسی رکاوٹ حائل ہوگئی ہے جس پر قطار میں کھڑے ایک ستر سالہ بزرگ کی بات صادق آتی ہے کہ ’ہم تو نقل مکانی کے بہانے سینٹرل جیل سے باہر نکل آئے ہیں‘۔

ایک محسود دہشت گردی کی وجوہات اور مسئلے کا کیا حل سوچتا ہے۔ یہی سوال لے کر میں ڈیرہ اسماعیل خان کے شیخ یوسف میں بے گھر افراد کے لیے قائم رجسٹریشن سینٹر پہنچا۔

سکیورٹی فورسز اور طالبان کی خوف سے عام محسودوں کے سِلے ہونٹوں سے کوئی بات نکلوانے کا تجربہ بہت تلخ تھا لیکن اپنی تمام تر مہارت کو استعمال کرنے کے بعد کئی لوگوں کی رائے معلوم کر ہی لی۔

پہلے سنیے مکین کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک استاد کی رائےجس نے نام بتانے سے انکا ر کر دیا۔ انہوں نے دہشت گردی کی وجوہات بتانے کی بجائے اس کا حل بتایا ’میرے خیال میں پاکستان نے طالبان کو جس مقصد کے لیے بنایا تھا حکومت اسے طالبان پر اچھی طرح واضح نہیں کرسکی ہے۔ اگر حکومت طالبان کو اپنی غرض و غایت سے آگاہ کر دے یعنی میرا مطلب ہے کہ انہیں اس لیے بنایا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی فورسز کے خلاف لڑیں نہ کہ پاکستان کے خلاف‘۔

وزیرستان کے ایک شہری

’مسئلے کا حل طاقت نہیں مذاکرات ہیں۔ جب تک امریکہ افغانستان میں ہے اس خطے میں امن نہیں ہو سکتا۔

استاد کے خیال میں اگر حکومت ایسا نہیں کرسکتی تو ان کی دوسری تجویز یہ ہے کہ ’حکومت پہلے طالبان کے مالی ذرائع کی شہہ رگ کو کاٹ ڈالیں یعنی عربوں سے انہیں جو پیسہ مل ہے اس کے راستے منقطع کر دیں۔میں وہاں رہتا ہوں مجھے بھی پتا ہے اور خود طالبان بھی کہتے ہیں کہ ہمیں عربوں سے پیسہ ملتا ہے‘۔

قطار میں موجود ایک ستر سالہ بزرگ نے جو پانچ دن تک وقفے وقفے سے پہاڑی راستوں سے پیدل چلتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے ہیں نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا ’دیکھیں جنوبی وزیرستان کا مسئلہ بہت زیادہ پیچیدہ ہوگیا ہے۔ یہ صرف محسود جنگجؤوں کی بات نہیں وہاں تو چیچن، ازبک، افغان، عرب اور ترکمان جنگجو سب ہیں اس لیے مقامی طالبان کو بعض اوقات مجبوراً لڑنا پڑتا ہے۔ لہذا پہلے اس نیٹ ورک کو توڑنا چاہیے‘۔

جنوبی وزیرستان کے رمضان محسود کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’مسئلے کا حل طاقت نہیں، جنوبی وزیرستان میں تو حکومت کی سرے سے موجودگی ہی نہیں۔ پہلے تو وہ آئیں جائزہ لیں کہ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں ہے۔ اس کے بعد حکمت عملی وضع کر کے کارروائی کریں لیکن اب تو فوج نے ایسی کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں بے گناہ لوگوں کو ہی زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچ رہا ہے‘۔

ایک بزرگ شہری

مقامی طالبان کو بعض اوقات مجبوراً لڑنا پڑتا ہے۔

مجھے ایک ایسے نوجوان بھی ملے جو طالبان کی طرح اپنا چہرہ رومال سے ڈھانپے ہوے تھے۔ وہ کہنے لگے ’مسئلے کا حل طاقت نہیں مذاکرات ہیں۔ جب تک امریکہ افغانستان میں ہے اس خطے میں امن نہیں ہو سکتا۔ طالبان امریکہ کے خلاف ہیں پاکستان کے نہیں۔ ہاں البتہ پاکستان پر اس لیے حملہ کر رہے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت سب کچھ امریکہ کے کہنے پر ہی کر رہی ہے‘۔

تحریکِ طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے ہم نام ایک اور نوجوان کے پاس اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ’حکومت تمام محسودوں کو فوج، ملیشا، پولیس اور دیگر اداروں میں بھرتی کر دیں، جب بے روز گاری ختم ہوگی تو طالبان اور مجاہدین بھی خود بخود ختم ہوجائیں گے‘۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔