Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 23 october, 2009, 18:07 GMT 23:07 PST

میرانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر؟

بی بی سی اردو سروس میں آنے سے پہلے ماہ پارہ صفدر پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان پر نیوز پریزینٹر کی حیثیت سے وابستہ تھیں۔ زندگی کے اس ابتدائی سفر سے وابستہ بہت سی یادیں ان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں، بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر گزشتہ آٹھ ہفتوں سے انہیں یاداشتوں پر مبنی سلسلہ شائع کیا جا رہا ہے۔ پیش ہے گیارہویں کڑی:

بی بی سی میں ڈیپوٹیشن کے لیے منتخب ہونے کے بعد مجھے دو اور کٹھن مراحل سے بھی گزرنا ہوگااس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔ پہلی مشکل تھی وزیراعظم سے منظوری۔

انتخاب کے پورے مراحل سے گزرنے کے بعد فائل کا دستخط کے لیے وزیر اعظم کے پاس جانا میری سمجھ سے بالکل بالا تھا۔ سوائے وقت کے زیاں اور ارتکاز اختیارات۔

میں لندن جانے کی تیاریوں میں مصروف تھی کہ بے نظیر بھٹو نے یہ نوٹ لکھ کر فائل واپس بھیج دی کہ مجھے ایک نہیں تین نام بھیجے جائیں فیصلہ میں کروں گی۔ غالباً یا تو انھیں طریقہ کار سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ یا اگر کچھ اور معاملہ تھا تو اس کا مجھے علم نہیں ہوسکا۔ پھر وہ ہی کہ جوکام معمول کے مطابق ہونا چاہیے تھا اس کے لئے آپ سفارش ڈھونڈیں۔ خوش قسمتی سے بے نظیر بھٹو کے ترجمان بشیر ریاض نے افغانستان سے واپس آنے والی بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈیوسٹ کچھ صحافیوں اور مجھے کھانے پر بلایا۔ اور یوں بشیر ریاض کی مداخلت پر وزیر اعظم کی منظوری کا معاملہ تو طے ہوگیا۔ تو دوسرا عفریت آن کھڑا ہوا۔ منیر نیازی نے ایسے حالات کی کیا خوب ترجمانی کی ہے۔

میں ڈی جی صاحب کے بہترین فرنیچر سے آراستہ کشادہ کمرے میں داخل ہوئی تو ایک چمکتی ہوئی طویل و عریض سے میز کے پیچھے سرخ وسفید ڈی جی صاحب سفید براق شلوار قمیض میں ملبوس فائلوں پر جھکے ہوئے تھے۔ میرے کمرے میں داخل ہونے پرانھوں نے نظریں اٹھا کر یہ دیکھنے زحمت گوارہ نہیں کی کہ کمرے میں کون داخل ہوا۔ مجھے خاصی حیرت ہوئی۔ لمحے تو وہ شائد چند ہی تھے مگر بہت ہی بھاری۔

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

پاکستان میں خفیہ ایجینسیاں عام سول ملازمین کی زندگیوں پر کیسے سایہ فگن ہیں۔اس کا مجھے پہلی مرتبہ ذاتی تجربہ ہوا۔

خفیہ ادارے آئی بی نے مجھے کلیئرنس دینے سے انکار کردیا ۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ میں تقرری اور وزیر اعظم کے منظوری کے باوجود بیرون ملک نہیں جاسکتی۔

اس وقت میں جس ذہنی اذیت سے گزری وہ کیفیت شائد میں کبھی بیان نہ کرسکوں سوائے اس کے کہ مجھے زندگی میں کبھی ایسی بے بسی کا احساس نہیں ہوا۔ بالکل یوں لگا جیسے میں کسی فرعون کی خدائی میں رہ رہی تھی۔ اپنی زندگی کے اہم اور بالکل نجی فیصلے کے لیے ایک خفیہ ایجنیسی کے احکامات کی محتاج تھی۔ ملکی سیاست کی اکھاڑ پچھاڑ میں خفیہ ایجنسیوں کے کردار سے میں بخوبی واقف تھی۔ مگرایگزٹ کنٹرول فہرست میں میرا نام؟ وہ کس لیے میں نے سوچا: میرا تعلق سرکاری ریڈیو ٹی وی سے تھا اور یہ حکومت کی مدح سرائی کے سوا اور کیا کرتے تھے۔

خیر داستان طویل اور خاصی تکیف دہ ہے۔ مختصراً یہ کہ آئی بی کے سابق ڈائریکٹر جنرل خواجہ مسرور( میری ایک کزن کے بہت ہی قریبی سسرالی عزیز تھے)کی مدد سے اس وقت کے ڈی جی سے ملاقات کا وقت ملا۔

میں ڈی جی صاحب کے بہترین فرنیچر سے آراستہ کشادہ کمرے میں داخل ہوئی تو ایک چمکتی ہوئی طویل و عریض سے میز کے پیچھے سرخ وسفید ڈی جی صاحب سفید براق شلوار قمیض میں ملبوس فائلوں پر جھکے ہوئے تھے۔ میرے کمرے میں داخل ہونے پرانھوں نے نظریں اٹھا کر یہ دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ کمرے میں کون داخل ہوا۔ مجھے خاصی حیرت ہوئی۔ لمحے تو وہ شائد چند ہی تھے۔ مگر بہت ہی بھاری۔

ماہ پارہ صفدر

نظریں فائل پرسے اٹھائے بغیر بولے ’جی فرمایے بی بی میں کیا کرسکتا ہوں آپ کے لیے‘ حا لانکہ ان کے فوری جواب سے مجھے محسوس ہوا کہ وہ میرے آنے سے پہلے میری فائل دیکھ چکے تھے اور بخوبی جانتے تھے کہ میں کیوں آئی تھی)۔ میں کچھ نروس تھی۔ نوکری ہاتھ سے جانے کا سوال تھا۔ میں نے کہا کہ میری جانے کی تاریخیں طے ہوچکی ہیں۔ مجھے کلیرنس کیوں نہیں دی جارہی۔ مجھے دیکھتے ہوئے بولے’بی بی آپ کا ایک سابق وزیر سے ملنا جلنا ہے یعنی تعلقات ہیں‘۔ چند لمحوں کو میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آگیا اور مجھے سمجھ میں نہیں آیا کیا جواب دوں کہ اس قدر کریہہ جھوٹ میرے لیے بالکل خلاف توقع تھا۔

لیکن چند لمحوں میں خود کو مجتمع کرچکی تھی۔ میں نے جواب دیا کہ ان محترم سے چند ماہ قبل جوش ملیح آبادی کی برسی پر ہالیڈے ان میں میری پہلی اور آخری مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ برسی کی تقریب میں خصوصاً میرے شوہر صفدر کو جوش صاحب کی پوتی نے مدعوکیا تھا اور میں ان کے ہمراہ گئی تھی۔ میں کیا کہہ رہی تھی شائد ڈی جی صا حب کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ ان سے زیادہ حقیت احوال سے کون واقف ہوگا۔ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بولے بی بی آپ جن کے توسط سے آئی ہیں وہ میری محترم ہیں۔ گھر جائیے دو تین روز میں آپ کو کلیرنس مل جائےگی۔

غریب عوام کو شائد یہ اندازہ بھی نہیں کہ جو مالی اور انسانی وسائل ان کی بہبود پرخرچ ہونے چاہیں وہ کس طرح بیجا تصرف میں لائے جاتے ہیں۔ شکر ہے کہ چند برسوں سے تو یہ آواز بلند ہوتی جارہی ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں کیا صرف ہراساں کرتی ہیں؟

غریب عوام کو شائد یہ اندازہ بھی نہیں کہ جو مالی اور انسانی وسائل ان کی بہبود پرخرچ ہونے چاہیں۔وہ کس بیجا تصرف میں لائے جاتے ہیں۔ شکر ہے کہ چند برسوں سے یہ آواز اونچی ہونی شروع ہوئی ہے کہ کیا پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا کام امن پسند سول ملازمین کو ہراساں کرنا ہے؟

کچھ دوستوں کا کہنا تھا کہ یہ معمول کی پیشہ ورانہ جلن تھی۔ اس قسم کی رپورٹیں عموماً فدویوں کی کارروائی ہوتی ہیں۔ اس لیے قابل اعتماد نہیں ہوتیں۔ جیسے شروع ہوتیں ہیں ویسے ہی ختم ہوجاتیں ہیں جس کا عملی مظاہرہ میری رپورٹ کے سلسلے میں ہوا۔ اس سچائی میں کوئی شک نہیں مگر ایک سچ یہ بھی ہے کہ آئی بی کی یہ رپورٹ خواتین کو ہراساں کرنے کی اس ماحول کی عکاس تھی۔ جس کا مجھے کئی مرتبہ سامنا کرنا پڑا۔ مثلاً ایک جرنیل صاحب میڈیا کی خواتین کو اپنی رعایا تصور کرتے تھے۔ ہمیشہ اشاروں کنایوں میں کچھ کہنے کی کوشش میں رہتے تھے۔

ٹی وی کے ابتدائی برسوں میں لاہور ٹی وی کے ایک سینئیر ایڈیٹر مجھے مسلسل ہراساں کرتے رہے۔ مگر اس خوف میں اس کا گھر والوں کے سامنے کبھی ذکر نہیں کیا کہ مجھے ہی ٹی وی جانے سے روک دیا جائیگا۔

میں اب جذباتیت کے دور سے بہت دور نکل ائی تھی۔ اور سمجھتی تھی کہ یہ وہ قیمت تھی جو میں نے اپنے گلیمرس ٹی وی کیریئر کے لئے چکائی۔ آپ بتائیے کیا اسی کیریئر کی وجہ سے ملنے والی بے پناہ عزت’ محبت اور شہرت کے مقابلے یہ قیمت کچھ زیادہ ہے؟۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں کیونکہ ا یسا کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا۔ لہذا ایسے معاملات خاموشی کا حصار نہیں توڑ پائے۔ اور ہراساں کرنے کا عمل اکثر کسی نے کسی طور میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ لندن آنے کےکوئی تین برس بعد ایک صاحب نے کراچی سے آنے والے اپنے ایک دوست کا خاص طور پر مجھ سے تذکرہ کیا اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر بہت معنی خیز انداز میں میری جانب دیکھتے ہوئے بولے ’وہ بتارہے تھےکہ آپ یہاں تک یعنی بی بی سی میں کیسے پہنچیں۔‘

میں اب جذباتیت کے دور سے بہت دور نکل آئی تھی اور سمجھتی تھی کہ الزامات کی صورت میں یہ وہ قیمت تھی جو میں نے اپنے گلیمرس ٹی وی کیریئر کے لیے چکائی۔ آپ بتائیے کیا اسی کیرئیر کی وجہ سے ملنے والی بے پناہ عزت’ محبت اور شہرت کے مقابلے یہ قیمت کچھ زیادہ ہے؟ ہاں ایک خوشی اور بھی کہ سفر کے چند تاریک لمحوں میں بھی روشنی کی ایک لکیر میرے شوہر کی صورت میں ہمیشہ میرے ساتھ رہی۔

اور بس ہر سفر کی طرح یاد کا یہ سفر بھی اپنے اختتام کو ہے۔ چند الوداعی یادوں کے ساتھ آئندہ جمعے کو ملیں گے۔

Virtual keyboard

* ان خانوں کو پُر کرنا ضروری ہے

(زیادہ سے زیادہ حروف: 500)0

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔