Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 21 october, 2009, 16:41 GMT 21:41 PST

تعلیمی اداروں کے لیے سکیورٹی گارڈ

فائل فوٹو، رحمان ملک

دھماکہ خیز مواد اور خودکش حملہ آوروں کا پتہ چلانے کے لیے سکینرز اور دوسرے سازوسامان کی پہلی کھیپ رواں ماہ پاکستان پہنچ جائے گی: رحمان ملک

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی اداروں میں سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر تین سوگارڈ فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صورت حال خراب ہونے کی صورت میں تعداد اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

بدھ کو وزارت داخلہ میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے پرنسپل اور وائس چانسلرز کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں نے اپنے طور پر سکیورٹی کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا ہے تاہم وہاں پر تعینات افراد کو خصوصی تربیت بھی دی جائے گی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں بعض نجی تعلیمی ادارے ہر طالب علم سے سکیورٹی کے نام پر دو سے تین سو روپے ماہانہ وصول کر رہے ہیں۔

تعلیمی اداوروں میں سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے تین ذیلی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جس کا اجلاس چار روز بعد دوبارہ ہوگا۔آئندہ ہونے والے اجلاس کے بعد تعملیی ادارے کھولنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا

رحمان ملک

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کے متعلق سکریٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جب کہ تعلیمی اداوروں میں سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے تین سب کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جس کا اجلاس چار روز بعد دوبارہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہونے والے اجلاس کے بعد تعلیمی ادارے کھولنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کی وجہ سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے پچیس اکتوبر تک بند کر دیے گئے ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مواد اور خود کش حملہ آوروں کا پتہ چلانے کے لیے سکینرز اور دوسرے سازوسامان کی پہلی کھیپ رواں ماہ میں پاکستان پہنچ جائے گی جب کہ باقی سامان چھ ماہ میں پاکستان پہنچ جائے گا۔

اقوم متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے دفتر پر ہونے والے خود کش حملے کے مقدمے کی تفتیش کے بارے میں وزیر داخلہ نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش تکمیل کے مراحل میں ہے اور اس ضمن میں فرنٹئر کانسٹیبلری کے کچھ اہلکاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستان کسی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ پاکستان نے ابھی تک سترہ شدت پسندوں کو ایران کے حوالے کیا ہے جس میں جندواللہ گروپ کے سربراہ عبدالمالک ریکی کا چھوٹا بھائی بھی شامل ہے

رحمان ملک

ایران میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعہ میں ایرانی حکام کی طرف سے پاکستان پر الزام عائد کرنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان کسی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ابھی تک سترہ شدت پسندوں کو ایران کے حوالے کیا ہے جس میں جند اللہ گروپ کے سربراہ عبدالمالک ریکی کا چھوٹا بھائی بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ عبدالمالک اس وقت افغانستان میں ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام جب پاکستان کا دورہ کریں گے تو اُن کے خدشات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے بارے میں رحمان ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ بھارت بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور شدت پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارتی قیادت بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ اُن کے ملک میں ممبئی حملوں جیسے حملے دوبارہ ہو سکتے ہیں۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بار بار کہنے کے باوجود بھارتی قیادت اس ضمن میں پاکستان کو کوئی معلومات فراہم نہیں کر رہی۔ انہوں نے بھارتی قیادت سے کہا کہ وہ دھمکیاں دینا بند کرے اور اپنے ملک کی سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔