Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 16 october, 2009, 10:13 GMT 15:13 PST

’پنجاب میں فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں‘

کوئی ایک قصبہ، گاؤں یا علاقہ بتا دیں جہاں طالبان کی رٹ ہو: رانا ثناء اللہ

صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن تو جاری رہے گا لیکن وہاں کسی بڑے فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب جمعرات کو لاہور میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد صوبے بھر میں اور خصوصاً لاہور میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلٰی شہباز شریف جو ان واقعات کے سبب اپنا لندن کا دورہ ملتوی کر چکے ہیں انہوں نے جمعہ کو اپنے وزراء اور اعلٰی پولیس حکام کے ہمراہ بیدیاں روڈ پر واقع ایلیٹ پولیس ٹرینگ سنٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ہلاک ہونے والے اسسٹنٹ سب انسپکٹر جعفر کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اس عمارت کی سکیورٹی کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلٰی کو کل ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی جتنی بھی بہتر ہو اسے مزید بہتر کرنے کی گنجائش موجود رہتی ہے اور کل رات تین گھنٹے جاری رہنے والے اعلٰی سطحی اجلاس میں صوبہ پنجاب کی سکیورٹی کا از سر نو جائزہ لیا گیا اور اس میں بہتری کے لیے پالیسی بنا لی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں کسی کالعدم جماعت کی رٹ نہیں ہے اس لیے وہاں کسی قسم کے آپریشن کی ضرورت نہیں ہے البتہ معمول کا سرچ آپریشن جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں آپریشن کا مطالبہ کرنے والے کوئی ایک قصبہ، گاؤں یا علاقہ بتا دیں جہاں طالبان کی رٹ ہو، یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمعرات کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد پنجاب کے مختلف شہروں میں گرفتاریاں کی گئیں ہیں تاہم ان کی تفصیلات بتانا مناسب نہیں۔

جمعرات کے واقعات کی تحقیقات کے لیے مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ حساس عمارتوں پر سکیورٹی بے حد سخت کر دی گئی ہے۔ دہشت گردوں سے ملنے والے اسلحے کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ایسا اسلحہ شدت پسندوں کے کون سے گروہ استعمال کرتے ہیں۔

پنجاب کے وزیر اعلٰی نواز شریف نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ ان واقعات میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے ورثاء کو تیس تیس لاکھ، ہلاک ہونے والے عام شہریوں کے ورثاء کو تین تین لاکھ روپے جبکہ شدید زخمیوں کو پچھہتر ہزار اور معمولی زخمیوں کو پچاس ہزار روپے دیے جائیں گے۔

وزیر اعلٰی نے کہا کہ سکیورٹی کے انتظامات میں بھی بہتری ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کو موقع ہی نہیں دیا کہ وہ پہنی ہوئی بارودی جیکٹوں کا استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد ان بارودی جیکٹوں کا استعمال کر لیتے تو بہت زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گرد لمبی منصوبہ بندی کر کے آئے تھے کیونکہ ان کے پاس کھجوریں، چینی اور پانی کی بوتلیں تھیں لیکن سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی کے سبب وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہوئے۔

ادھر جمعرات کے واقعات کی تحقیقات کے لیے مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ حساس عمارتوں پر سکیورٹی بے حد سخت کر دی گئی ہے۔ دہشت گردوں سے ملنے والے اسلحے کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ایسا اسلحہ شدت پسندوں کے کون سے گروہ استعمال کرتے ہیں۔

مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر پر معمول کی سر گرمیاں معطل ہو گئی ہیں اور سکول کے باہری دروازے پر آہنی بیرئر لگا دیے گئے ہیں اور سکول کے چاروں طرف پولیس کے جوان بندوقیں اٹھائے چوکس کھڑے ہیں۔ اس سکول میں زیر تربیت زیادہ تر کیڈٹ اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں جبکہ علاقے کے مکین ابھی بھی خوفزدہ ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔