آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 13 october, 2009, 14:35 GMT 19:35 PST

وزیرستان: ابھی نہیں تو کبھی نہیں؟

جنوبی وزیرستان کے علاقے میں پہلے سے تعینات شدہ فوج اس تعداد سے دوگنا ہے جس نے مالاکنڈ میں کامیاب آپریشن کیا

جنوبی وزیرستان پر زمینی حملے کا اعلان گورنر سرحد نے پندرہ جون کو کیا تھا۔

اس بات کو چار ماہ ہو چکے ہیں اور فوج اب بھی زمینی حملے کے آغاز کے لیے مناسب وقت کا انتظار کر رہی ہے۔

پیر کو فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اصولی طور پر فیصلہ کر لیا ہے لیکن اب یہ فوجی قیادت کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس کے لیے مناسب وقت کونسا ہے۔

تو وہ کونسی چیز جو فوج کو اب تک حملہ کرنے سے روک رہی ہے؟

جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بارے میں گورنرسرحد کے اعلان کے ایک ہفتے بعد اس وقت غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی جب حکومت نواز طالبان کمانڈر زین الدین محسود کو ڈیرہ اسماعیل خان میں قتل کر دیا گیا تھا۔

بظاہر فوج انہیں بیت اللہ محسود کے مقابلے میں لانے اور ان کی شکست کے بعد انہیں تحریک طالبان پاکستان کا امیر بننے کے لیے تیار کر رہی تھی۔

خود بیت اللہ محسود اگست میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد چند مبصرین نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ اب ایک بھرپور آپریشن کی ضرورت نہیں ہے اور مقامی سطح پر ہونے والا کوئی چھوٹا موٹا آپریشن بھی طالبان کا قلع قمع کرنے کے لیے کافی ہے۔

فوج کی اعلیٰ قیادت نے میڈیا کو غیر رسمی بریفنگ میں جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے التواء کی کئی وجوہات بیان کیں۔

بریفنگ کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک کی سویلین حکومت فوج کی طرف سے حال ہی میں کلیئر کیے گئے علاقوں میں انتظامی مشینری کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس کے نتیجے میں فوج اس قابل نہیں ہو سکی ہے کہ وہ اپنے جوان دیگر علاقوں میں آپریشن کے لیے لگا سکے۔

ان دلائل کے مطابق فوج پوری طرح تیار نہیں ہے کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز کر سکے جو دیگر علاقوں سے زیادہ خطرناک ہے۔

فوجی قیادت کے مطابق سوات اور مالاکنڈ کے دیگر علاقوں میں فوج نے جون کے شروع میں کامیاب آپریشن کیا تھا لیکن حکومت ابھی تک مقامی پولیس فورس میں اضافہ کرنے اور عدالتی خلاء کو پُر کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ فوج شدت پسند گروہوں کے باقیات کے ساتھ نپٹنے میں مصروف ہے کیونکہ اسے خطرہ ہے اگر یہ کم تعداد میں ہی وہاں موجود رہے تو بندوق برداروں کی واپسی ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ فوج آٹھ ہزار گرفتار شدت پسندوں کے انتظامی بوجھ پر بھی شور مچا رہی ہے۔

فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ فوج ان شدت پسندوں کو حراست میں رکھے ہوئے ہے کیونکہ پولیس اتنے زیادہ لوگوں کے بوجھ سے عہدہ برا نہیں ہو سکتی ہے۔

مزید برآں یہ کہ موجودہ عدالتیں اور انسداد دہشت گردی کے قوانین ان شدت پسندوں پر مقدمات چلانے اور سزائیں دینے کے لیے مناسب نہیں ہیں۔

فوج کے مطابق اسی تاخیر کی وجہ سے ہم موسمِ سرما کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں جو جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں ہے۔

اس کے مقابلے میں ایسے دلائل بھی ہیں جو فوج کی طرف سے دی جانے والی وجوہات پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

پہلی دلیل یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان کے شمال مشرق میں واقع وہ علاقے جہاں فوجی آپریشن کیا جانا ہے وہ اتنے دشوار گزار نہیں ہیں جتنا مالاکنڈ ڈویژن تھا۔

مالاکنڈ کا علاقہ اپنے گھنے جنگلات اور پانی کی وافر دستیابی کی وجہ سے شدت پسندوں کے طویل عرصے تک چھپے رہنے کے لیے ایک آئیڈئل علاقہ ہے۔

دوسری طرف جنوبی وزیرستان ایک بارانی علاقہ ہے جہاں درختوں کا نام و نشان تک نہیں اور پانی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان کے وہ علاقے جہاں آپریشن کیا جانا ہیں وہ گنجان آباد بھی نہیں ہے اور وہاں کے زیادہ تر رہائشی علاقے چھوڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے عام شہریوں کی ہلاکتیں نسبتاً کم ہوں گی۔

تیسری بات یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے میں پہلے سے تعینات شدہ فوج اس تعداد سے دوگنا ہے جس نے مالاکنڈ میں کامیاب آپریشن کیا تھا جو رقبے کے لحاظ سے جنوبی وزیرستان سے زیادہ ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ فوج سن دو ہزار دو سے وزیرستان میں موجود ہے جبکہ یہ مالاکنڈ کے علاقے میں بالکل اجنبی تھی۔

پانچویں دلیل یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان کا محسود علاقہ جہاں آپریشن ہونا ہے وہاں سردی اتنی نہیں ہوتی جتنی دیگر علاقوں میں ہوتی ہے اور اس نے ماضی قریب میں فوج کو سردیوں میں آپریشن سے نہیں روکا۔

مبصرین کے خیال میں ان حالات کے پیش نظر دو وجوہات ہیں جو فوج کو اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے روک رہی ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود گروپ کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے وزیر علاقوں کے شدت پسند بھی درمیان میں کود پڑیں گے۔

یہ القاعدہ سے روابط رکھنے والے حقانی نیٹ ورک کے جنگجو ہیں جنہوں نے فوج کے ساتھ امن معاہدے کر رکھے ہیں۔

ان گروپوں نے ابھی تک اپنی سرگرمیاں خصوصی طور پر افغانستان تک محدود رکھی ہوئی تھیں اور کئی مبصرین کا خیال ہے کہ ان گروہوں کی سرگرمیاں افغانستان میں فوج کے سکیورٹی مفادات میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان گروپوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے ان مفادات کو زک پہنچتی ہے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔