
میں نے دہشت گردوں کو ایک نیا نام دیا ہے ’کرائے کے قاتل‘: رحمان ملک
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ سیاسی حکومت نے جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا اصولی فیصلہ کیا ہوا ہے تاہم یہ کب شروع ہوگا اس کا حتمی فیصلہ فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کریں گے۔
ادھر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے آغاز سے قبل حکومت شدت پسندوں کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ شدت پسندوں سے جس نے الگ ہونا ہے اسے اس کا پورا موقع فراہم کر دیں۔ اس سے ان کی مدد میں کمی آئے گی۔‘
تاہم اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں فوجی صدر دفتر پر حملے کی کڑیاں بھی جنوبی وزیرستان سے جاملتی ہیں۔ ’دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ ان کا اپنا تیار کیا ہوا دین ہے۔ انہیں ایسے نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔ شدت پسند اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں۔ میں نے انہیں ایک نیا نام دیا ہے کرائے کے قاتل۔ ان کا ایک ہی کام ہے کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا۔ وقت دور نہیں ہم انہیں مار بھگائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں شدت پسند کارروائیوں میں اضافے کی پشت پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہے۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں واقع سفارت خانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئی فورس بھی تیار کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سفارت خانوں کو جگہیں الاٹ کی جاچکی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام دفاتر بھی ڈپلومیٹک انکلیو منتقل ہو جائیں۔
ادھر پشاور سے اطلاعات ہیں کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین کا ایک وفد مذاکرات کے لیے طلب کیا گیا ہے جس سے حکومت تحریک طالبان کی مدد ختم کرنے کا مطالبہ کرے گی۔
پاکستانی فوج گزشتہ کئی ماہ سے جنوبی وزیرستان میں شدت پسند ٹھکانوں پر فضائی حملے پہلے ہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا مقصد عسکری ذرائع کے مطابق زمینی کارروائی سے قبل نشانے کو کمزور کرنا ہے۔ توقع ہے کہ کارروائی جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے تک ہی محدود رہے گی۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔