Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 12 october, 2009, 05:48 GMT 10:48 PST

’فوج نواز حکومت کی برطرفی نہیں چاہتی تھی‘

جنرل امجد شعیب

’فوجی کمانڈرز کا نواز حکومت برطرف کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا‘

دس برس قبل نواز شریف کی دو تہائی اکثریت کے بل پر چلتی حکومت کی برطرفی، سابق وزیراعظم کے انداز حکومت کے خلاف فوج کا ادارہ جاتی ردعمل یا ’انسٹیٹیوشنل ری ایکشن‘ تھا۔

یہ وہ دلیل ہے جو فوجی بغاوت کے حمایت کار نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد عوام اور میڈیا کے نمائندوں کے سامنے پیش کرتے رہے۔ لیکن اس وقت پاکستانی فوج کے اہم ترین عہدے پر رہنے والے پرنپسل سٹاف آفیسر اور فوج کے ایڈجوئنٹ لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ یہ دلیل جھوٹ پر مبنی تھی۔

فوجی بغاوت کے دس برس مکمل ہونے پر بی بی سی کو دئے گئے ایک انٹرویو میں سابق ایڈجوئنٹ جنرل نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ فوجی بغاوت نواز شریف یا ان کی پالیسوں کے خلاف فوج کا ایک ادارے کے طور پر ردعمل تھا۔

ان کے مطابق ’صرف راولپنڈی کے کور کمانڈر اور ایک دو اور جرنیل اس میں شامل تھے باقی افسران کے لیے یہ ایک مجبوری تھی کیونکہ جب ایک بغاوت کامیاب ہو گئی اور عوامی سطح پر اسے پذیرائی بھی مل گئی تو اس کے بعد اس کی مخالفت کا کوئی فائدہ نہیں تھا‘۔

حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوجی سربراہ کے لیے راولپنڈی کے کمانڈر کو اپنے ساتھ ملا لینا کافی ہوتا ہے کیونکہ کارِ حکومت چلانے کے لیے اسلام آباد اور پنڈی کے تمام اہم مراکز پر تعینات اہلکار انہی کی زیر کمان ہوتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب

جنرل امجد نے کہا کہ نواز شریف کی طرز حکمرانی کے بارے میں فوج میں عوام کی طرح بےچینی تھی اور ان کے اقدامات کا درست کرنے کی خواہش بھی تھی لیکن اس کا مقصد اصلاح احوال تھا، اقتدار پر قبضہ نہیں۔ ’فوج کی خواہش تھی کہ نواز شریف اہم امور پر اکیلے فیصلہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور کابینہ سے مشاورت کیا کریں لیکن وہ سب فیصلے ایک کچن کابینہ کے ذریعے کرتے تھے۔ جنرل جہانگیر کرامت نے بھی انہیں یہی بتانے کی کوشش کی تھی کہ وہ اہم قومی اور دفاعی امور پر فیصلوں کے لیے قومی سلامتی کونسل بنا دیں لیکن انہیں نے اس کا بھی غلط مطلب نکالا‘۔

تاہم پاک فوج کے سابق پرنسپل سٹاف آفیسر نے کہا کہ فوجی کمانڈرز کا نواز حکومت برطرف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور یہ کام پرویز مشرف اور ان کے دو ساتھیوں نے ذاتی خواہش اور منصوبہ بندی کے ذریعے کیا۔

’راولپنڈی کور کے کمانڈر اور جنرل پرویز مشرف کو پہلے سے معلوم تھا کہ نواز شریف کیا کرنے والے ہیں اس کے جواب میں انہیں کیا کرنا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے انہوں نے کسی تیسرے کو شامل نہیں کیا کیونکہ فوجی بغاوت کے لیے بس یہ دو فوجی افسر ہی کافی ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں تعینات فوجی دس کور کے نیچے ہوتے ہیں اور باقی کمانڈرز کا ان پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا‘۔

فوج کی خواہش تھی کہ نواز شریف اہم امور پر اکیلے فیصلہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور کابینہ سے مشاورت کیا کریں لیکن وہ سب فیصلے ایک کچن کابینہ کے ذریعے کرتے تھے۔ جنرل جہانگیر کرامت نے بھی انہیں یہی بتانے کی کوشش کی تھی کہ وہ اہم قومی اور دفاعی امور پر فیصلوں کے لیے قومی سلامتی کونسل بنا دیں لیکن انہیں نے اس کا بھی غلط مطلب نکالا‘۔

لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دو جرنیل کسی بھی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ جنرل امجد نے کہا تکنیکی اور عملی کحاظ سے ایسا ہی ہوتا ہے۔ ’حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوجی سربراہ کے لیے راولپنڈی کے کمانڈر کو اپنے ساتھ ملا لینا کافی ہوتا ہے کیونکہ کارِ حکومت چلانے کے لیے اسلام آباد اور پنڈی کے تمام اہم مراکز پر تعینات اہلکار انہی کی زیر کمان ہوتے ہیں‘۔

اس سوال پر کہ کیا پھر باقی فوجی کمانڈر جنرل مشرف کے سامنے بے بس تھے اور کیا انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، جنرل امجد نے کہا کہ باقی افسران حکومت کے خاتمے کی خواہش نہ رکھنے کے باوجود فوجی نظم و ضبط کے باعث مجبوراً اس وقت خاموش رہے۔

’لیکن جیسے ہی پرویز مشرف نے کور کمانڈر کانفرنس بلائی ان پر تنقید کی گئی اور ان سے کہا گیا کہ وہ چھ ماہ کے اندر اندر حکومت کا کنٹرول سیاستدانوں کو واپس کر دیں لیکن انہوں نے بہانے بنانے شروع کر دئیے اور وقت گزرنے کے ساتھ کورکمانڈرز کو بھی فیصلہ سازی کے عمل سے باہر نکال دیا۔ میرا خیال ہے کہ مہینہ بھر بعد بیشتر فوجی کمانڈرز جنرل مشرف کے مشاورتی عمل سے نکل گئے تھے اور ان کے مشیروں میں چند فوجی ہی رہ گئے تھے‘۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔