آخری وقت اشاعت:  Sunday, 20 september, 2009, 20:46 GMT 01:46 PST

کوئٹہ:پولیس اہلکار ہلاک، چھ زخمی

سکیورٹی اہلکار(فائل فوٹو)

کوئٹہ میں عید کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے: پولیس

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کل رات نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ اور دستی بم پھینکنے کے واقعات میں ایک پولیس اہلکارہلاک اور ایک بچی سمیت چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد عیدکی خریداری میں مصروف تھی۔

سنیچر کی رات دس بجے کے قریب کوئٹہ شہر کے معروف تجارتی علاقے جناح روڈ پر واقع ڈاکٹرجعفر چوک کے قریب قائم کی جانے والی فرنٹیئرکورکی ایک چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں پوسٹ کے قریب سے گزرنے والی ایک بچی ماریہ بی بی سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کوفوری طور پرسول ہسپتال پہنچا دیاگیا جہاں ڈاکٹروں نے زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی۔ جس وقت دستی بم کاحملہ ہوا اس وقت بازار میں خریداروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور اس واقعہ کے بعد عید کی خریداری کرنے والے لوگوں میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے۔

واقعہ کے بعدفرنٹیئرکور اور پولیس نے علاقے کوگھیر ے میں لے لیا ہے۔ تاہم کوئی گرفتار عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ ہے کسی نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

مستونگ کے علاقے کڈکوچہ میں نامعلوم افراد نے کرومائیٹ کی ایک فیکٹری کوریمورٹ کنٹرول بم سے تباہ کردیا۔ بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ نے اس واقعہ کی ذمہ دار ی قبول کر تے ہوئے کہا ہے کہ کسی کواجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کو لوٹ کر لے جائیں یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کرومائیٹ، سنگ مر مر اور کوئلہ سندھ اور پنجاب لے جانے والے ٹرکوں پرحملے کیے گئے ہیں

خیال رہے کہ گزشتہ جمعرات کو اسی چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تھی اور جوابی فائرنگ سے ایک راہگیر زخمی ہوا تھا۔

کوئٹہ پولیس کے سربراہ عابد حسین نوتکانی نے حال ہی میں کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیاتھا کہ پولیس نے کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ اور فورسز پر حملوں میں ملوث تخریب کاروں کے ایک بڑے نیٹ ورک کو توڑ کر بارہ ملزمان کوگرفتار کیا ہے۔

بقول سی سی پی اوکے کہ کوئٹہ میں عید کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں شہر کے حساس علاقوں میں ایف سی سمیت پولیس کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔

دوسری جانب شاہ وکشاہ روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار محمد ناصر ہلاک ہوا ہے۔ حملے کے بعد ملزمان ایک موٹرسائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ادھر سنیچرکے روز مستونگ کے علاقے کڈکوچہ میں نامعلوم افراد نے کرومائیٹ کی ایک فیکٹری کوریمورٹ کنٹرول بم سے تباہ کردیا۔ بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ نے اس واقعہ کی ذمہ دار ی قبول کر تے ہوئے کہا ہے کہ کسی کواجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کو لوٹ کر لے جائیں یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کرومائیٹ، سنگ مر مر اور کوئلہ سندھ اور پنجاب لے جانے والے ٹرکوں پرحملے کیے گئے ہیں۔

اس طر ح بلوچستان کے علاقے مند میں بلوچ لیبریشن فرنٹ کے ترجمان ڈوڈا بلوچ نے ایف سی کے ایک کیمپ پردستی بموں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے لیکن کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان مرتضی بیگ نے دستی بموں سے حملے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ مند میں کوہ پش کے پہاڑی سے کئی بارایف سی کے کیمپ پر فائرنگ ہوئی ہے لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔