
قتل کے بعد ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا
بلوچستان ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ وزارت دفاع پاکستان کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کو پابند کرے کہ وہ بلوچستان میں تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے اغواءاور قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں تربت کی مقامی پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
یہ ریمارکس چیف جسٹس جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جناب غلام مصطفی مینگل نے جمعرات کے روز بلوچ قوم پرست رہنماؤں غلام محمد بلوچ، لالہ منیر اور شیر محمد کے اغواءاور قتل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔
سماعت کے دوران ڈی پی او کیچ عبدالرؤف بڑیچ نے عدالت کو بتایا کہ ان تینوں افراد کے قتل کے سلسلے میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور ایم آئی پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ بقول عبدالرؤف کے پولیس نے اس سلسلے میں کئی خطوط بھی ان خفیہ اداروں کو لکھے ہیں لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔
تربت کے واقعے کے بعد نہ صرف بلوچستان میں ایک ہفتے تک پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہا بلکہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک ہفتے کے اندر بیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے
۔
انہوں نے بتایا کہ تر بت پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں سات افراد کے بیانات قلمبند کئے ہیں۔ اپنے بیانات میں گواہوں نے بتایا کہ اگر اغواءکاروں کو ان کے سامنے لایا جائے تو وہ ان کو پہنچان سکتے ہیں ۔
ڈی پی او کیچ نے مزید بتایا کہ ان سات افراد کے بیانات کے علاوہ تحقیقات میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔اس موقع پر عدالت نے وزارت دفاع کو ہدایت جاری کی کہ وہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ ان تینوں بلوچ رہنماؤں کے قتل کی تحقیقات میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اس سلسلے میں سینئر اور تجربہ کار آفیسروں کی خدمات لی جائیں تاکہ پولیس اصل ملزمان گرفتار کرکے قانون کے مطابق انہیں سزا دی جاسکے۔
عدالت نے کیس کی سماعت بارہ اکتوبر تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ بلوچ نیشنل فرنٹ کے رہنماءغلام محمد بلوچ ، لالہ منیر اور شیر محمدکو تربت میں نامعلوم افراد نے نیشنل پارٹی کے رہنماء اور بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے سابق لیڈ ر کچکول علی ایڈوکیٹ کے دفتر سے اغواء کیا تھا۔
ان افراد کی لاشیں چار اپریل کوتربت کے علاقے پداگ سے ملی تھیں۔ بلوچستان ہائیکورٹ نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لے کر پولیس کو تحقیقات کرنے کے بعد ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی تھی لیکن پولیس تاحال اس واقعہ کے الزام میں کسی کوگرفتار نہیں کرسکی ہے۔
خیال رہے کے تربت کے واقعے کے بعد نہ صرف بلوچستان میں ایک ہفتے تک پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہا بلکہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک ہفتے کے اندر بیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق غیر بلوچوں یا پھر آبادکاروں سے تھا کیونکہ بلوچ قوم پرستوں اور آزادی پسندوں نے اس واقعہ کی ذمہ دار ی پاکستان کے خفیہ اداروں پر عائد کی تھی لیکن پاکستان کے وزارت داخلہ نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔