Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 14 september, 2009, 11:11 GMT 16:11 PST

راشن کے لیے بھگدڑ، سولہ خواتین ہلاک

میڈیکو لیگل افسر نے بتایا کہ ہلاک شدگان میں تین کمسن بچیوں سمیت چودہ خواتین شامل ہیں۔

پاکستان کے شہر کراچی میں مفت راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ سے سولہ خواتین ہلاک ہو گئی ہیں۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کراچی میں واقع کھوڑی گارڈن میں جو کہ جوڑیا بازار میں واقع ہے، مفت راشن کی تقسیم کی جا رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق لوگوں کے رش کی وجہ سے حبس ہو گیا جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور چودہ خواتین ہلاک ہوگئیں۔

مقامی ہسپتال میں میڈیکو لیگل افسر نے بتایا کہ ہلاک شدگان میں تین کمسن بچیوں سمیت چودہ خواتین شامل ہیں جکبہ وزیرِ اعلیٰ سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ مرنے والے اٹھارہ ہیں۔ ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے جوڑیا بازار سے بتایا ہے کہ ڈی سی او نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے چودہ خواتین کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم رات گئے ایدھی حکام نے ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد سولہ بتائی۔

اطلاعات کے مطابق کھوڑی گارڈن میں راشن تقسیم ہو رہا تھا جہاں پر تین سو سے چار سو افراد جمع تھے۔ اس ہجوم میں قطار بنانے کے مسئلے پر جھگڑا شروع ہوا جس کے وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔ چونکہ یہ علاقہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے اس لیے یہاں سے نکلنا بھی مشکل تھا اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں بھی کافی مشکلات پیش آئیں۔

یہ واقعہ کھوڑی گارڈن کی کچھی گلی میں پیش آیا جہاں افتخار چودہری پچھلے دس سال سے مفت راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ راشن اس گلی میں افتخار منزل نامی ایک بلڈنگ کے سامنے بانٹا جاتا ہے۔

شہر کے قدیمی علاقے میں واقع جوڑیا بازار شہر میں اجناس کے ہول سیل کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، جہاں ہر وقت دھان، چینی اور چاول کی بوریاں ٹرکوں سے اترتی اور چڑھتی رہتی ہیں۔افتخار منزل دو منزلہ عمارت ہے، جس کے نیچے اجناس کی دکان اور اوپر دفاتر ہیں۔

سٹی سٹیشن سے آنے والی ایک خاتون روینا کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دس سال سے یہاں آتی ہیں۔ یہاں سے جو کارڈ ملتا ہے وہ دوسری دکان پر دیتے ہیں وہاں سے کسی کو آٹا چاول تو کسی کو مکمل راشن دیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق ’اس مرتبہ خواتین کی تعداد زیادہ تھیں جو شور مچا رہی تھیں اس وجہ سے سیٹھ کے ملازم کارڈ تقسیم کیے بغیر نیچے اتر گئے۔ خواتین بھی ان کے پیچھے گئیں جس دوران کچھ سیڑھیوں سے گر گئیں اور پیچھے آنے والی خواتین ان کے اوپر چڑہتی رہیں۔

ڈی سی او نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری افتخار کو جنہوں نے اس راشن کی تقسیم کو بندوبست کیا تھا پولیس پوچھ گچھ کے لیے لے گئی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔