آخری وقت اشاعت:  Friday, 11 september, 2009, 09:47 GMT 14:47 PST

’جرائم میں اضافہ آپریشن کا تقاضا کرتا ہے‘

میں سمجھتا ہوں کہ آج کراچی میں انیس سو بانوے سے زیادہ مسائل ہیں: ایس پی راؤ انوار

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے انیس سو بانوے کے آپریشن میں شامل قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے تو دوسری جانب کراچی آپریشن کے ایک اہم کردار ایس پی راؤ انوار نے کراچی میں ایک مرتبہ پھر اور پہلے سے زیادہ سخت آپریشن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ایم کیو ایم نے اس مطالبے کو ملکی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

ملک میں پچھلے چند دنوں سے میڈیا میں کراچی آپریشن کا ذکر چھڑا ہوا ہے اور اسی تناظر میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے چھ ستمبر کو یوم دفاع کے موقع پر اپنے ٹیلیفونک خطاب میں انیس سو بانوے کے آپریشن میں حصہ لینے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو معاف کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب کراچی آپریشن دور کے اہم کردار، اُس وقت کے تھانیدار اور اب ایس پی کے عہدے پر فائز راؤ انوار کہتے ہیں کہ جرائم کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ کراچی میں ایک اور آپریشن کا تقاضا کرتا ہے۔

کراچی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پہلے آٹھ ماہ میں پانچ سو سے زیادہ افراد کو گولی مارکر ہلاک کیا گیا جن میں سے ایک سو پچیس کے قریب افراد مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن تھے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں مارچ کے مہینے میں ہوئیں اور اس دوران ایک سو بارہ افراد کو ہلاک کیا گیا۔

اِس جیسے افراد اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اور بیمار ذہن رکھتے ہیں۔ بہرحال اس وقت ایک ذمہ دار پولیس افسر کے طور پر کام کرتے ہوئے اگر وہ اس طرح کا مطالبہ کررہے ہیں تو یہ بہت ہی افسوسناک ہے۔

فیصل سبزواری

دوسری جانب پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے جاری کردہ اعداد و شمار میں کہا ہے کہ سالِ رواں کی پہلی ششماہی میں کراچی میں ایک سو سیاسی کارکن ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں جبکہ مجموعی طور پر شہر میں اس عرصے کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد نو سو سے زیادہ ہے۔

ایس پی راؤ انوار کے بقول ’میں سمجھتا ہوں کہ آج کراچی میں انیس سو بانوے سے زیادہ مسائل ہیں۔ سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے، ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہیں اور مضبوط شواہد ہیں کہ ان وارداتوں میں ایم کیو ایم ملوث ہے جبکہ طالبان کا عنصر بھی سر اٹھا رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وقت آچکا ہے کہ کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد خلاف انیس سو بانوے سے زیادہ سخت آپریشن کیا جانا چاہیے۔

ایس پی راؤ انوار کے اس مطالبے کو ایم کیو ایم کے رہنماء اور سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری نے یکسر مسترد کردیا ہے۔ ’میرے خیال میں ملک ایک مشکل دور سے گذر رہا ہے اور ایسے وقت میں صوبہ سندھ ہی ہے جہاں استحکام بھی ہے اور امن بھی۔ لیکن اِس جیسے افراد اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اور بیمار ذہن رکھتے ہیں۔ بہرحال اس وقت ایک ذمہ دار پولیس افسر کے طور پر کام کرتے ہوئے اگر وہ اس طرح کا مطالبہ کررہے ہیں تو یہ بہت ہی افسوسناک ہے۔ اب اس طرح کرنے سے نہ صرف ملک کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ خدا نہ کرے ملک کی سالمیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘

کراچی یونیورسٹی میں شعبۂ کرمنالوجی کی سربراہ ڈاکٹر رعنا صبا سلطان کا کہنا ہے کہ آپریشن جرائم پر قابو پانے کا پائیدار حل نہیں بلکہ معاشرے سے محرومیوں کے خاتمے کو ممکن بنانے کی ضرورت ہے۔

سرکاری دعوے کے مطابق انیس سو بانوے میں کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا جو کسی نہ کسی طور انیس سو ننانوے تک جاری رہا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن جرائم پیشہ افراد کے بجائے شہر کی مقبول ترین جماعت ایم کیو ایم کے خلاف تھا جس میں اس جماعت کے سینکڑوں کارکنوں کو مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔