
مند میں تین دن قبل ایف سی اور بلوچ مزاحمت کاروں کے درمیا ن ایک جھڑپ میرجان بلوچ سمیت دو ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے
بلوچستان کے شہرتربت کے علاقے تمپ میں ایک احتجاج جلسے پرفرنٹیئر کور کی جانب سے فائرنگ اور آنسوگیس کے استعمال سے ایک نوجوان ہلاک اور ایک خاتون سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ جبکہ فرنٹیئر کورنے کہا ہے کہ پہلے جلسہ گاہ سے ایف سی اہلکاروں پرفائرنگ ہوئی تھی۔
بلوچ نیشنل فرنب کی جانب سے تین دن قبل مند میں فرنٹیئر کور کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہونے والے بلوچ نوجوان میر جان بلوچ کے سوئم کے موقع پر آج تمپ ہائی سکول میں ایک احتجاجی جلسہ ہورہا تھا کہ اس دوران فرنٹیئر کور کی بھا ری نفری نے جلسہ گاہ میں داخل ہوکر جلسہ کے شرکاء پر فائرنگ اور آنسوگیس کااستعمال کیا جس کے نتیجے میں تربت کالج کا بیس سالہ نوجوان مختار ولد عزیز ہلاک جبکہ ایک لڑکی شہناز سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طور پر تمپ میڈیکل سنٹر منتقل کردیاگیا جہاں ایک ڈاکٹر نےایف سی کی خوف سے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوبتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد کوگولیاں لگی ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ واقعہ میں دو شدید زخمیوں کو سول ہسپتال تر بت منتقل کردیاگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’جس وقت میں زخمیوں کو ابتدائی امداد دے رہا ہوں تواس وقت بھی ایف سی اہلکاروں نے ہسپتال کے باہر گشت کررہے ہیں۔‘
تمپ ہائی سکول کے گراؤنڈ میں پر امن احتجاجی جلسہ جاری تھا جس میں مردوں کے علاوہ خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موجودتھی اور جب ایک طالبہ خطا ب کر رہی تھی اس دوران ایف سی کی مسلح نفری نے اندر داخل ہو کر جلسہ کے شرکاء پر فائرنگ شروع کردی
کریمہ بلوچ
اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بی ایس او آزاد کی خاتون رہنماء کریمہ بلوچ نے بتایا کہ تمپ ہائی سکول کے گراؤنڈ میں پر امن احتجاجی جلسہ جاری تھا جس میں مردوں کے علاوہ خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موجودتھی اور جب ایک طالبہ خطا ب کر رہی تھی اس دوران ایف سی کی مسلح نفری نے اندر داخل ہو کر جلسہ کے شرکاء پر فائرنگ شروع کردی۔
اپنے بھا ئی کی ہلاکت پر ایک لڑکی فوزیہ نے روتے ہوئے کہ ایف سی والوں نے ان کے بےگناہ بھائی کوہلاک کیاہے لیکن ان کواپنے بھائی کی قربانی پر فخرہے اور و ہ بلوچستان کی آزادی کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی بہانے کے لیے تیار ہے۔ فوزیہ نے مزید کہا کہ ’یہ پاکستان کا جمہوریت اور اسلامی نظام ہے جس میں بلوچوں کی قتل عام جاری ہے۔‘
دوسری جانب فرنٹیئرکورنے جلسہ گاہ سے بی ایس او آزاد کے ایک طالب علم رہنما ببرگ بلوچ سمیت کئی افراد گرفتار کیے ہیں لیکن اس سلسلے میں جب کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان مرتضٰی بیگ سے رابطہ کیا توانہوں نےاس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمپ میں وہ جگہ ہے جہاں دہشت گردوں نے تین دن قبل ہمارے دو جوانوں کو ہلاک اور تین کوزخمی کیاتھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ایف سی کی گاڑیاں وہاں سےگذر رہی تھی توان پر جلسہ گاہ اور آس پاس کے گھروں سے فائرنگ ہوئی اور ایف سی نے جواب میں آنسوگیس کا استعمال کیا جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔ مرتضٰی بیگ کے مطابق چار افراد گرفتار کرلیے گئے ہیں اور باقی کی گرفتاریوں کے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
خیا ل رہے کہ مند کے علاقے میں تین دن قبل ایف سی اور بلوچ مزاحمت کاروں کے درمیا ن ایک جھڑپ ہوئی تھی جس میں میرجان بلوچ سمیت دو ایف سی اہلکار بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ میرجان کی ہلاکت کے بعد تربت میں خواتین کے احتجاجی مظاہرے پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسوگیس کے استعمال سے تین خواتین بھی زخمی ہوگئی تھیں۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔