آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 26 august, 2009, 09:47 GMT 14:47 PST

’آزادی کے لیے بھارتی مدد بھی قبول ہے‘

براہمداغ بگٹی

حکومت نے براہمداغ بگٹی پر جان سلیکی کے اغواء کا الزام بھی لگایا تھا

بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے پوتے اور بلوچ رپبلکن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ براہمداغ بگٹی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بلوچ مزاحمت کاروں کو غیر ملکی امداد ملنے کے دعوے غلط ہیں تاہم اگر بھارت سمیت کوئی بھی ملک ان کی مدد کرنا چاہے تو وہ اسے قبول کریں گے۔

ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو سے ٹیلی فون پر بات کرتے انہوں نے کہا کہ ’اب تک بھارت اور کسی اور ملک سے ہمیں کوئی امداد نہیں مل رہی لیکن اگر کوئی کرنا چاہے تو ہم بلوچستان کی آزادی کے لیے اسے قبول کریں گے‘۔

انہوں نے پاکستان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو قطعی طور پر رد کرتے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کر کے صوبے سے سیکیورٹی فورسز کو باہر نکالا جائے اور تمام گرفتار اور لاپتہ بلوچوں کو رہا کیا جائے اور اس کے بعد ہی حکومت پاکستان بتائے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطوں کی تردید کی اور کہا کہ ’بلوچستان میں فوجی آپریشن اب بھی جاری ہے اور مشرف کے بعد بھی وہی تسلسل ہے بلکہ آپریشن میں تیزی آئی ہے اور مکران میں ہمارے تین بلوچ لیڈروں کو قتل کیا گیا۔ یہ مشرف کے دور میں نہیں ہوئے‘۔

یرہ بگٹی کوہلو اور مکران میں آپریشن جاری ہے اور اگر آپریشن نہیں ہے تو پھر میڈیاوالوں کو کوہلو اور ڈیرہ بگٹی جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔ حکومت نے آپریشن کا صرف طریقہ کار تبدیل کیاہے لیکن کاروائی پہلے سے زیادہ ہو رہی ہے تو اس موقع پر کسی بھی طرح کی بات چیت کرنا میرے خیال میں مذاق ہے۔ کونسا نکتہ ہے جس پر ہم بات کریں۔حکومت کے اس دعوے کے بارے میں کہ بلوچستان میں حالات تبدیل ہورہے ہیں اور فوجی آپریشن بند ہو چکا ہے

براہمداغ بگٹی

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈیرہ بگٹی کوہلو اور مکران میں آپریشن جاری ہے اور اگر آپریشن نہیں ہے تو پھر میڈیاوالوں کو کوہلو اور ڈیرہ بگٹی جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔ حکومت نے آپریشن کا صرف طریقہ کار تبدیل کیاہے لیکن کاروائی پہلے سے زیادہ ہو رہی ہے تو اس موقع پر کسی بھی طرح کی بات چیت کرنا میرے خیال میں مذاق ہے۔ کونسا نکتہ ہے جس پر ہم بات کریں۔حکومت کے اس دعوے کے بارے میں کہ بلوچستان میں حالات تبدیل ہورہے ہیں اور فوجی آپریشن بند ہو چکا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نہ تو مرکز اور نہ پنجاب، سندھ اور صوبہ سرحد سے کچھ مانگ رہے ہیں۔ بلوچستان میں آپ آپریشن کررہے ہیں لوگوں کو آپ مار رہے ہیں۔ اسٹیبلشمینٹ، پنجابی لابی اور ایجنسیاں سب کچھ وہ کررہے ہیں تو وہ بتائیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ان کی سرزمین اور وطن ہے جس کے وسائل کو لوٹا جارہا ہے اور حقوق کی بات کرنے والوں کو قتل اور اغواء کرلیا جاتا ہے۔’جو کوئی بھی بلوچ قوم کی ان کے اپنے وسائل پر حاکمیت کی بات کرتا ہے وہ ان کی ہٹ لسٹ پر ہے‘۔ جب نوابزادہ براہمداغ بگٹی سے پوچھاگیا کہ وہ کن شرائط میں حکومت سے مذاکرات کریں گے تو جواب میں انہوں نے کہا کہ ’مذاکرات کس بات پر ہو، کس چیز پر ہو، ہم توکچھ چاہتے بھی نہیں‘۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔