آخری وقت اشاعت:  Saturday, 22 august, 2009, 06:29 GMT 11:29 PST

سری لنکن فوج پاکستانی فوج کو تربیت دے گی

لیفٹیننٹ جنرل جگتھ جےسو ریا

سری لنکا کی فوج نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے ارکان کو تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

سری لنکن فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے سری لنکا میں تمل باغیوں کے خلاف کامیاب فوجی آپریشن کے بعد ان سے درخواست کی تھی کہ ہم پاکستانی فوج کے ارکان کو تربیت فراہم کریں۔

سری لنکا کے حکام نے مئی میں 10 سال سے زیادہ عرصے سے جاری باغیوں کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

فوج کے نئے کمانڈرنے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پاکستانی حکام نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کی تربیت کے لیے اپنے کیڈٹ سری لنکا بھیجنا چاہتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل جگتھ جےسو ریا نے کہا تھا ’ہم اس درخواست کا مثبت جواب دیں گے‘۔

انہوں نے بتایا ہے کہ چھ ہفتوں کے خصوصی فوجی کورس شروع کیے گئے ہیں تاکہ دنیا بھر کی جو بھی فوجیں اس میں دلچسپی رکھتی ہیں وہ اپنے ارکان کو یہاں بھیج کر اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

لیفٹیننٹ جنرل جگتھ جےسو ریا کا کہنا ہے کہ انہوں نے سفارتی ذرائع کے توسط سے امریکہ، بھارت اور فلپائن کو بھی ایسے تربیتی کورسز میں شرکت کی پیشکش کی ہے۔

انہوں نے اس خبروں کی تردید کی کہ پاکستانی فوجیوں کو باغیوں سے چھڑوائے گئے علاقوں میں تربیت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تربیت ملک کے جنوب مشرقی حصے میں دی جائے گی۔

ماضی میں پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات میں گرمجوشی رہی ہے۔

مئی کے اواخر میں پاکستان نے بھارت، چین اور روس کے ساتھ ہم آواز ہوکر کولمبو کے حق میں اور اقوام متحدہ کی ایک تحریک کے خلاف ووٹنگ کی تھی۔ اس تحریک میں سری لنکا کی حکومت اور باغیوں، دونوں پر انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی پر تنقید کی گئی تھی۔

تاہم عین ممکن ہے کہ پاکستان کے فوجیوں کی سری لنکا میں تربیت کی خبر بھارت کے لیے بے چینی کا باعث ہو۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔