Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 11 august, 2009, 08:58 GMT 13:58 PST

’سواتی طالبان سے آزدای کی تیاریوں میں مصروف‘

شادی

بہت عرصے بعد شادی کی ایک باقاعدہ تقریب دیکھی

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کی وجہ سے لاکھوں لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ تقریباً دو ماہ کی کارروائی کے بعد حکومت نے اعلان کیا کہ مینگورہ اور بعض دیگر علاقوں پر سکیورٹی فورسز کا کنٹرول قائم ہوچکا ہے۔ اس کے بعد کیمپوں اور رشتہ داروں کے ہاں مقیم ’بےگھر افراد‘ کی واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔

ان دو ماہ میں ان علاقوں میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اور واپس لوٹنے والے کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اس سلسلے میں سوات کی ایک متاثرہ خاتون ٹیچر کی آپ بیتی شائع کر رہی ہے۔ اس خاتون ٹیچر کو طالبان نے نوکری چھوڑنے کی دھمکیاں دی تھیں مگر انہوں نے انکار کردیا تھا۔ سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر وہ ’گل سانگہ‘ کے فرضی نام سے اپنی ڈائری لکھ رہی ہیں۔ اس سلسلے کی تیسری کڑی پیش کی جارہی ہے۔

کلِک ’طالبان تو گئے لیکن خوف نہیں‘

کلِک ’آج اپنا ٹیپ ریکارڈر نکال کر منی بیگم کی غزلیں سنیں۔۔۔‘

پیر، تین اگست: ’بچوں کا حافظہ کمزور ہوچکا ہے‘

ہمارے سکول میں بچوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ آج ستاسی فیصد کے قریب بچے حاضر تھے لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کے ذہنوں پر اب بھی خوف سوار ہے جس کی وجہ سے ان کا حافظہ کمزور ہوگیا ہے۔ میں نے اپنی کلاس کے بچوں سے کئی سوالات کیے لیکن وہ جواب نہیں دے سکے حالانکہ فوجی کارروائی سے پہلے انہیں یہ سب کچھ زبانی یاد تھا۔

آج ہمارے محلے میں ایک لڑکی کی شادی ہوگئی ہے۔ میں تو نہیں گئی لیکن میری ایک سہیلی نے بتایا کہ انہوں نے بہت عرصے بعد شادی کی ایک باقاعدہ تقریب دیکھی۔ اس سے پہلے جب طالبان کا کنٹرول تھا تو انہوں نے گانے بجانے اور دیگر رسومات پر پابندی لگائی ہوئی تھی۔ اس وقت تو صرف دولھا کے گھر کی بعض عمر رسیدہ خواتین آکر خاموشی کے ساتھ دلھن کو اپنے ساتھ لے جاتیں۔ سہیلی کا کہنا تھا کہ اس دفعہ بھی میوزک نہیں تھی اور نہ ہی لڑکیوں نے کوئی روایتی رقص کیا لیکن پھر بھی ڈولی دھوم دھام کے ساتھ اٹھائی گئی اور ہر ایک کے چہرے پر خوشی تھی۔

منگل، چار اگست: ’سیدو بابا کا مزار خالی تھا‘

ایس ایم ایس

نوجوان موبائل فون پر گانے سنتے ہیں

آج میں سیدو بابا کے مزار کی زیارت کرنے گئی تھی۔ سوات میں رکشوں پر پابندی لگائی گئی ہے اس لیے مجھے اپنے گھر سے مزار پہنچنے تک ڈیڑھ گھنٹے پیدل چلنا پڑا۔ راستے میں اس بات پر بہت خوشی ہوئی جب میں نے دوکانوں میں ڈش انٹینا کو فروخت ہوتے دیکھا۔ طالبان نے لوگوں کو کیبل اور ڈش انٹینا لگانے سے منع کیا تھا۔ سیدو بابا کے مزار پر میرے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ میں بھی صرف اس لیے گئی تھی کہ دیکھ لوں کہ کیا لوگ اب وہاں آنا شروع ہوئے ہیں۔ جن دوکانوں میں چوڑیاں اور کاسمیٹکس بیچی جارہی تھیں وہ بھی ویسی ہی بند پڑی تھیں جس طرح طالبان کی پابندی کے دوران۔

جمعرات، پانچ اگست: ’سواتی طالبان سے آزدای کی تیاریوں میں مصروف‘

آجکل جب صبح سکول کے لیے گھر سے نکلتی ہوں تو راستے میں پاکستان کی جھنڈیاں نظرآتی ہیں جو مختلف جگہوں پر لگی ہوئی ہیں۔ حکومت نے یہاں پر چودہ اگست کی تقریبات منانے کا اعلان کیا ہے۔ زیادہ تر مکانوں، دوکانوں اور سکولوں پر پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے سوات کے لوگ اپنی پہلی آزادی منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

لوگ انگریزوں سے آزادی کی خوشیاں منا رہے ہیں اور سوات کے لوگ طالبان سے آزادی کی خوشی میں چودہ اگست کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ تمام سکولوں میں بچوں کو خاکوں، تقریری اور کھیلوں کی مقابلوں کی تیاریاں کرائی جارہی ہیں۔

جمعہ، چھ اگست: ’طالبان کے جنگی ترانوں کی بجائے گانے‘

آج سکول سے واپس آتے ہوئے یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی کہ بعض نوجوان موبائل فون پر گانے سن رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ طالبان نے میوزک پر پابندی کے بعد موبائل فون لوگوں سے اس لیے چھین لیے تھے کہ ان میں میوزک اور تصویریں ہوتی تھیں۔ بہت سے نوجوانوں کے موبائل توڑ دیے گئے تھے۔ مجبوراً ہر کوئی موبائل میں طالبان کے جنگی ترانے، نعتیں یا طالبان کی جنگی ویڈیو محفوظ کرتے تھے اور انہیں پھر معافی بھی مل جاتی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔